اسلام آباد — بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ایک اور سفارتی محاذ پر سازش ناکام ہو گئی، جب یہ انکشاف ہوا کہ نئی دہلی نے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں دوبارہ شامل کرانے کے لیے جھوٹے الزامات پر مبنی مہم تیار کی تھی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی حکومت نے عالمی سطح پر پاکستان کو دہشتگردی کی مالی معاونت سے جوڑنے کے لیے ایک منظم پروپیگنڈا تیار کیا، جس کا مقصد ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستان کے خلاف کارروائی کو جواز فراہم کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق بھارت، ان نکات کو اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے جن پر پاکستان نے 2022 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلتے وقت عملدرآمد کا وعدہ کیا تھا، اور جن میں سے چند پر عملدرآمد کو بھارت ناکافی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ کے مطابق، بھارتی حکومت دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات پر مبنی ایک تفصیلی ڈوزیئر تیار کر رہی ہے، جسے آئندہ ماہ ہونے والے ایف اے ٹی ایف پلینری اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کی یہ کوشش نہ صرف عالمی ضوابط کی روح کے منافی ہے بلکہ پاکستان کے خلاف دشمنی پر مبنی پالیسیوں کا تسلسل بھی ہے۔ یہ اقدام عالمی مالیاتی اداروں، خاص طور پر آئی ایم ایف سے پاکستان کو ملنے والی ممکنہ امداد پر اثر انداز ہونے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ بھارت جان بوجھ کر ایسے حربے استعمال کر رہا ہے تاکہ پاکستان کی معیشت کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے اور اس کے ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کیا جا سکے۔
مودی کے متنازع بیان پر عوامی غم و غصہ
ادھر بھارت میں وزیرِاعظم نریندر مودی کی حالیہ بیان بازی کو شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے۔ مودی کے اس متنازع بیان پر کہ "ہماری نسوں میں خون کے بجائے گرم سندور بہتا ہے” — بھارتی خواتین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
مودی پر تنقید کرتے ہوئے متعدد خواتین نے کہا کہ جو شخص خود "سندور” کی حرمت نہ رکھ سکا، وہ اس کی قدر کیا جانے؟ عوام نے سوال اٹھایا کہ پہلگام جیسے دلخراش واقعے میں بیوہ ہونے والی خواتین کے زخم آج بھی تازہ ہیں، لیکن وزیراعظم نے ان کی کوئی خبرگیری نہیں کی۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے یہ سوال بھی کیا کہ اتنی بڑی فوجی موجودگی کے باوجود دہشت گرد کیسے کارروائی کر کے فرار ہو گئے؟ اور مودی پہلگام جانے کے بجائے انتخابی مہمات میں مصروف کیوں ہیں؟
سوشل میڈیا اور عوامی مجالس میں یہ سوالات گردش کر رہے ہیں کہ اگر بھارت واقعی امن چاہتا ہے تو وہ داخلی احتساب سے کیوں گریز کر رہا ہے؟ بھارتی عوام نے الزام عائد کیا کہ حکومت زمینی حقائق سے توجہ ہٹانے کے لیے جذباتی نعروں اور میڈیا پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہے۔

