اقوام متحدہ میں پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ پاکستان کے 24 کروڑ شہریوں کی بقا کو براہِ راست خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام "مسلح تنازعات میں پانی کے تحفظ” سے متعلق آریا فارمولہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بھارت کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی معاہداتی قانون، عرفی عالمی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت
سفیر جدون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے خطرناک رجحانات کا نوٹس لے، جو مستقبل میں انسانی بحران یا علاقائی عدم استحکام کو جنم دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں کا بہاؤ روکنے یا محدود کرنے جیسے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں، اور پاکستان ان پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے بھارتی قیادت کے اس بیان پر بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا جس میں ’پاکستانیوں کو پیاسا مارنے‘ کی دھمکی دی گئی تھی، اور اسے بھارت کے ’انتہا پسندانہ ذہن‘ کی عکاسی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر مستحکم، خطرناک اور عالمی امن کے لیے مہلک طرزِ عمل ہے۔
عالمی اصولوں کی خلاف ورزی
پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے فورم سے پانی کے تحفظ کے عالمی اصولوں کی توثیق اور پانی کو بطور دباؤ یا سودے بازی کے ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف بین الاقوامی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایسے اقدامات پر نگاہ رکھنی چاہیے جو عالمی انسانی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں۔
پاکستان کے بیان میں تین بنیادی نکات اجاگر کیے گئے:
- بین الاقوامی قوانین کے تحت قانونی پابندیاں؛
- متحارب فریقوں کی ذمہ داریاں؛
- پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آبی وسائل اور ان سے وابستہ بنیادی ڈھانچے کو حملوں سے محفوظ رکھا جانا چاہیے اور پانی تک رسائی سے انکار سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی تصور کیا جائے۔
بھارت کا بدنیتی پر مبنی رویہ
سفیر جدون نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ ایک ریاست، جس کے عزائم بدنیتی پر مبنی ہیں، پانی کو محض ہتھیار ہی نہیں بلکہ سودے بازی کا آلہ بھی بنا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی بینک کے کردار کو محدود کرنے کی بھارتی کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جو 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کا ضامن رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ بھارت کی یہ حکمت عملی اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے اور باہمی تعاون کے ڈھانچے کو کمزور کرنے کی ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔
اقوام متحدہ میں تلخ جملوں کا تبادلہ
ایک علیحدہ اجلاس کے دوران، اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت کے نمائندوں کے مابین زبانی جھڑپ اس وقت شدت اختیار کر گئی جب پاکستانی سفیر عاصم افتخار نے حالیہ بھارتی حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
بھارتی مندوب پروتنینی ہریش نے جوابی الزامات میں پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا دعویٰ کیا، جس پر پاکستانی سفارتکار صائمہ سلیم نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے بھارت پر گمراہ کن معلومات پھیلانے، حقیقت سے انکار کرنے اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کا الزام لگایا۔
شہریوں پر حملے اور بھارت کی کھلی جارحیت
صائمہ سلیم نے حالیہ بھارتی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھارت کی بلااشتعال گولہ باری سے 40 افراد شہید اور 121 زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ دوسروں کو شہریوں کے تحفظ کے لیکچر دینے کے بجائے خود انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، جب کہ بھارت نہ صرف دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے بلکہ انہیں مالی معاونت بھی فراہم کر رہا ہے۔ ان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ شامل ہیں۔
انہوں نے خضدار میں بچوں کی اسکول وین پر حالیہ دہشت گرد حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی مداخلت کے باعث معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
بامقصد مذاکرات کی ضرورت
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ اگر بھارت واقعی امن و سلامتی کا خواہاں ہے تو اسے ریاستی دہشت گردی ختم کر کے، کشمیری عوام پر مظالم بند کرتے ہوئے، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں بامقصد مذاکرات کی راہ اختیار کرنی ہوگی تاکہ مسئلہ کشمیر کا پرامن اور دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے۔

