پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیچینی ماہر کا کہنا ہے کہ مودی کا پانی کی جنگ کا...

چینی ماہر کا کہنا ہے کہ مودی کا پانی کی جنگ کا دھمکی خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے
چ

ChatGPT said:

چینی ماہر کا موقف: مودی کی پانی کی جنگ کی دھمکی خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی پانی کے حقوق کو انسداد دہشت گردی اور کشمیر کی خود مختاری کے مسئلے سے جوڑنے کی کوشش کو بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ چینی اسکالر پروفیسر چنگ زیژونگ نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں امن کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ہفتے کو جاری کردہ بیان میں، چارہار انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو پروفیسر چنگ نے مودی کی باتوں کو "غاصبانہ سوچ کی علامت” قرار دیا، جو اہم آبی وسائل کو سیاسی اور اسٹریٹجک مقاصد کے لیے ہتھیار بنانے کی کوشش ہے۔

پروفیسر چنگ نے کہا، "مودی کی پاکستان کے خلاف پانی کی جنگ کی دھمکی نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ بھارت کی عالمی سطح پر ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ دھمکیاں انسانیت کے خلاف ہیں اور جنوبی ایشیا کے نازک استحکام کو برباد کر دیتی ہیں۔”

انڈس واٹرز ٹریٹی، جو 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دستخط ہوئی، پانی کے حقوق کے تبادلے کو منظم کرتی ہے۔ پاکستان اپنی زراعت، صنعت اور روزمرہ کی زندگی کے لیے ان وسائل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اس معاہدے کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کے انسانی اور جغرافیائی سیاسی سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔پروفیسر چنگ کے مطابق، مودی حکومت کا موقف بھارت میں بڑھتے ہوئے شدت پسند قوم پرستی اور ہندو انتہا پسندی پر مبنی توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم موجودہ فوجی ناکامیوں اور اقتصادی مشکلات کی وجہ سے اندرونی تنقید کو روکنے کے لیے توجہ بیرونی تنازعات کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پروفیسر چنگ نے کہا، "بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ فضائی جھڑپ میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس میں پانچ جدید لڑاکا طیارے تباہ ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی 9.7 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور روپے کی قدر میں بھی شدید کمی آئی ہے۔ مودی قوم پرستی کا مظاہرہ کر کے عوامی ناخوشگواری کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی فوجی اور اسٹریٹجک ساکھ متاثر ہو چکی ہے، اور اگر موجودہ کشیدگی کو صحیح طریقے سے قابو نہ کیا گیا تو یہ ملکی اور خطے کی سطح پر وسیع بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ پروفیسر چنگ نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ اہم قدرتی وسائل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کرے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون اور گفت و شنید کو فروغ دے۔

چینی ماہر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت کی جانب سے سیاسی بیان بازی میں شدت آ رہی ہے اور مستقبل میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر اس خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی کی قلت بڑھنے کے تناظر میں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین