اسلام آباد – قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2025 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں 88 ارب روپے سے زائد کی رقوم بازیاب اور متاثرین کو ادا کی ہیں، جن میں براہِ راست بازیابیاں 2.085 ارب روپے اور بالواسطہ بازیابیاں 86 ارب روپے شامل ہیں۔
نیب کے ترجمان کے مطابق، اس سہ ماہی کی بازیابیوں کے ساتھ نیب کی کل بازیاب شدہ رقم 6.236 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہے، جس میں سے 62.92 فیصد (3.92 ٹریلین روپے) گزشتہ 18 ماہ کے دوران بازیاب کیے گئے ہیں۔ نیب نے ناجائز طور پر منتقل یا قابض کی گئی سرکاری اور نجی اراضی واپس مالکان کو دلانے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ رقوم مختلف افراد اور اداروں سے پلی بارگین، رضاکارانہ واپسی اور قانونی تصفیوں کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں۔
نیب نے اپنے احتسابی عمل کو جاری رکھتے ہوئے مالی شفافیت اور بدعنوانی کے ذریعے ضائع شدہ فنڈز کی واپسی پر خصوصی توجہ دی ہے۔
نیب کے ترجمان نے بالواسطہ بازیابیوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ نیب بلوچستان نے چلتن پارک کی 340 ایکڑ اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی 250 ایکڑ اراضی واپس حاصل کی، جس کی مالیت 6.45 ارب روپے ہے۔ نیب خیبر پختونخوا نے یونیورسٹی آف صوابی کے افسران اور اہلکاروں کے کیس میں 0.56 ارب روپے کی بازیابی کی۔
اسی طرح، ریونیو اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹس کے مطابق، نیب لاہور نے تین بڑے کیسز میں مجموعی طور پر 70.87 ارب روپے بازیاب کیے، جن میں ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، اسٹیٹ لائف انشورنس ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی، اور سرور اومیگا ولاز شامل ہیں۔
نیب ملتان نے جی ایف ایس 7 ونڈرز ہاؤسنگ اسکیم سے 13 کروڑ روپے کی بازیابی کی، جبکہ نیب سکھر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی 610 ایکڑ اراضی واپس حاصل کی، جس کی مالیت 8.53 ارب روپے ہے۔
براہِ راست بازیابیوں کی تقسیم کے حوالے سے، نیب نے وفاقی حکومت کو 9.72 ملین روپے، صوبائی حکومتوں کو 10.80 ملین روپے، اور مختلف محکموں و مالیاتی اداروں کو 73.51 ملین روپے منتقل کیے۔

