پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیسید خامنہ ای نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے جوہری مذاکرات...

سید خامنہ ای نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے جوہری مذاکرات کی کامیابی پر شکوک کا اظہار کیا
س

تہران نے صدر ابراہیم رئیسی کی شہادت کی پہلی برسی منائی، اس موقع پر رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ ایران کی پالیسیاں واضح ہیں اور وہ بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے منگل کے روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری پیغام میں کہا کہ امریکہ براہِ راست مذاکرات پر اس لیے اصرار کرتا ہے تاکہ دنیا کو یہ تاثر دے سکے کہ اس نے ایران کو دھمکیوں، ترغیبات اور فریب کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر رئیسی نے اس بیانیے کو جڑ پکڑنے نہیں دیا۔

یاد رہے کہ 20 مئی 2024 کو ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر اعلیٰ حکام شہید ہو گئے تھے۔

رہبرِ معظم نے کہا کہ رئیسی کے دور میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچے، اور اب بھی ہمیں ان سے کسی مثبت پیشرفت کی امید نہیں۔ انہوں نے کہا: "ہم نہیں جانتے کہ ان مذاکرات سے کیا نتیجہ نکلے گا، لیکن ہمیں کوئی امید نہیں۔”

سید خامنہ ای نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "فضول باتیں نہ کریں” اور ان کی یہ خواہش کہ ایران یورینیم کی افزودگی ترک کر دے، "بالکل لغو اور بے بنیاد” ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی پالیسیوں کے تعاقب کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

رہبرِ انقلاب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر رئیسی کے ہاتھ میں قرآنِ مجید اور شہید قاسم سلیمانی کی تصویر اٹھانے کو ایران کے لیے "باعث فخر” قرار دیا۔

رہنماؤں کا صدر رئیسی کو خراج عقیدت

سید خامنہ ای نے تہران کے امام خمینی ہال میں منگل کے روز منعقدہ تعزیتی تقریب سے خطاب میں شہید صدر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی عاجزی، خلوص، سادگی، اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہا۔

انہوں نے کہا: "رئیسی خود کو عوام سے برتر نہیں سمجھتے تھے۔ وہ نہ صرف عوام کے ساتھ تھے بلکہ خود کو ان سے بھی کمتر سمجھتے تھے۔”

اس موقع پر ایران کی تینوں شاخوں کے اعلیٰ حکام، شہداء کے اہل خانہ، اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب میں لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہونے والے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے بچوں نے بھی شرکت کی۔

رئیسی کی خارجہ پالیسی آج بھی رہنما اصول ہے

صدر رئیسی کی برسی سے قبل ایرانی حکام اور مزاحمتی محاذ کے رہنماؤں نے ان کی میراث کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر انٹیلیجنس اسماعیل خطیب نے کہا کہ صدر رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی یاد مزاحمت، امریکہ و اسرائیل کی مخالفت، اور محورِ مزاحمت کی حمایت کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ رئیسی اور عبداللہیان کی وضع کردہ خارجہ پالیسی آج بھی ایران کے بین الاقوامی رویے کی بنیاد ہے۔

ایران کے موجودہ صدر مسعود پزشکیان نے مشہد میں رئیسی کی والدہ سے ملاقات کر کے انہیں تعزیت پیش کی۔

دوسری جانب حزب اللہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بھی رئیسی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: "شہید سید رئیسی ایک عظیم شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے دوران حساس اور اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "فلسطین ہمیشہ ان کے دل کے مرکز میں رہا۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین