پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی ٹیکنالوجی کمپنی پر اظہارِ رائے کو دبانے کا الزام : رپورٹ

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی پر اظہارِ رائے کو دبانے کا الزام : رپورٹ
ا

مائیکروسافٹ کے ملازمین کا دعویٰ: "فلسطین” یا "غزہ” جیسے الفاظ والے ای میل بلاک کیے جا رہے ہیں

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کو اندرونی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، جہاں ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی کے اندرونی ای میل سسٹم میں ایسے پیغامات روکے جا رہے ہیں جن میں "غزہ”، "فلسطین” یا "نسل کشی” جیسے الفاظ شامل ہوں۔ دی ورج کے مطابق ان الزامات نے اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے اور مخصوص گروہوں سے امتیازی سلوک برتنے کے خدشات کو جنم دیا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب کمپنی کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر تنقید کا سامنا ہے۔

یہ دعوے ‘نو ایژر فار اپارتھائیڈ (NOAA)’ نامی ایک احتجاجی گروہ کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جس میں مائیکروسافٹ کے موجودہ اور سابق ملازمین شامل ہیں۔ گروہ کے مطابق درجنوں ملازمین داخلی یا خارجی ای میلز نہیں بھیج سکے کیونکہ ان میں مذکورہ الفاظ شامل تھے۔

اس کے برعکس، "اسرائیل” یا متبادل املا جیسے "P4lestine” والے پیغامات پر کوئی پابندی عائد نہیں۔ NOAA کے منتظم حسام نصر نے کہا کہ یہ اقدام کارکنوں کی آزادیٔ اظہار کو دبانے کی کوشش ہے اور فلسطینی ملازمین اور ان کے حامیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتا ہے۔

مائیکروسافٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ای میل کے نظام میں تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اندرونی سیاسی پیغامات میں کمی لائی جا سکے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق یہ اقدامات اس لیے کیے گئے کہ "غیر متعلقہ سیاسی موضوعات پر بڑی تعداد میں ملازمین کو ای میل کرنا مناسب نہیں” اور اس قسم کی بات چیت کے لیے "اختیاری فورمز” استعمال کیے جانے چاہئیں۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر رہا ہے جب مائیکروسافٹ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت (AI) کے معاہدوں پر احتجاج کا سامنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ٹیکنالوجی غزہ میں فوجی کارروائیوں میں استعمال کی جا رہی ہے۔ اگرچہ کمپنی نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعاون کا اعتراف کیا ہے، تاہم 16 مئی کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ اس کی ٹیکنالوجی سے کسی کو نقصان پہنچا — حالانکہ کمپنی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسے نجی نظاموں پر اپنے سافٹ ویئر کے استعمال کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں۔

حالیہ ہفتوں میں کمپنی کے اندرونی اختلافات عوامی سطح پر بھی نمودار ہوئے ہیں۔ مائیکروسافٹ کی ڈویلپر کانفرنس کے دوران ملازم جو لوپیز نے سی ای او ستیہ نڈیلا کی تقریر کے دوران مداخلت کی اور کمپنی پر جنگی جرائم میں معاونت کا الزام لگایا۔ اس واقعے کے بعد لوپیز کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا، جس سے قبل انہوں نے ہزاروں ملازمین کو ایک اجتماعی ای میل میں کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین