مشرق وسطیٰ:
یمنی مسلح افواج کے اسرائیل کے اندر گہرائی تک جاری فوجی حملوں کے نتیجے میں صہیونی ریاست کو ایک شدید معاشی دھچکا پہنچا ہے، جب کہ کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے "بن گوریان” ہوائی اڈے (جسے اسرائیلی حکومت لوڈ ایئرپورٹ کے طور پر پکارتی ہے) کیلئے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ یمن کی جانب سے فضائی اور بحری ناکہ بندی نے اسرائیلی تاریخ میں پہلی مرتبہ محاصرہ کا ایسا بے نظیر منظر پیش کیا ہے۔
صہیونی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ برٹش ایئرویز نے اسرائیل کیلئے پروازوں کی معطلی جولائی کے اختتام تک بڑھا دی ہے، جب کہ اس سے قبل یہ معطلی 14 جون تک محدود تھی۔ اس فیصلے کو یمن کی فضائی ناکہ بندی کی کامیابی اور امریکی و اسرائیلی فضائی دفاعی نظاموں کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح ائیر فرانس نے بھی اپنی پروازوں کی بحالی کے اعلان کے باوجود 26 مئی تک لوڈ ایئرپورٹ کیلئے پروازیں معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
متعدد دیگر عالمی ایئرلائنز بھی اسرائیل کیلئے پروازیں منسوخ کر چکی ہیں، جن میں شامل ہیں:
- لفتھانسا گروپ (آسٹریئن ایئرلائنز، یورو وِنگز، برسلز ایئرلائنز، سوئس): 8 جون تک
- آئی ٹی اے ائیر ویز (اطالوی ایئرلائن): 8 جون تک
- رائن ایئر: 4 جون تک
- ائیر انڈیا: 25 جون تک
- ایزی جیٹ: جولائی کے اوائل تک
- لاٹ پولش ایئرلائنز: 26 مئی تک
- ائیر کینیڈا: 8 ستمبر تک
- ائیر بالٹک: 20 مئی تک
- آئبیریا: 31 مئی تک
- آئبیریا ایکسپریس: یکم جون تک
- یونائیٹڈ ایئرلائنز: 13 جون تک
- ٹرانساویا: 24 مئی تک
پروازوں کی یہ بڑے پیمانے پر معطلی نہ صرف اسرائیلی معیشت کو ایک اسٹریٹیجک نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ یمنی عسکری کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی تاثیر کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے آغاز کے بعد سے، یمن ایک کلیدی علاقائی قوت کے طور پر ابھرا ہے، جو فلسطینی مزاحمت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ صنعاء کی قیادت میں قائم حکومت کے تحت یمنی مسلح افواج نے اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد اسٹریٹیجک کارروائیاں کی ہیں، جن میں میزائل و ڈرون حملے، بحری و فضائی ناکہ بندیاں شامل ہیں۔
سرخ سمندر میں بحری نقل و حمل کو متاثر کرنے سے شروع ہونے والی یہ کارروائیاں اب ایلات بندرگاہ اور لوڈ ایئرپورٹ جیسے کلیدی اسرائیلی اقتصادی مراکز تک پھیل چکی ہیں۔ مئی 2025 میں یمنی افواج نے حیفا بندرگاہ پر بھی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جو اسرائیلی درآمدات کا ایک تہائی سے زائد بوجھ سنبھالتی ہے۔
یہ تمام اقدامات یمن کی اس پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت وہ اسرائیل پر غزہ پر جنگ بند کرنے اور محاصرہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی فضائی، بحری و سیاحتی سرگرمیوں میں شدید خلل واقع ہوا ہے، اور درجنوں عالمی ایئرلائنز نے اسرائیلی ہوائی اڈوں کیلئے پروازیں معطل کر دی ہیں۔

