پیر, اپریل 6, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ کے بچوں کے حق میں آواز اٹھانے پر ’’مس ریشل‘‘ پر...

غزہ کے بچوں کے حق میں آواز اٹھانے پر ’’مس ریشل‘‘ پر یہود دشمنی کا الزام
غ

نیویارک: بچوں کی تعلیم اور والدین کی رہنمائی کے حوالے سے مشہور امریکی شخصیت ’’مس ریچل‘‘ (ریچل اکرسو) کو غزہ کے معصوم بچوں کی حمایت میں آواز اٹھانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، یہاں تک کہ ان پر یہود دشمنی (antisemitism) کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے۔

42 سالہ ریچل اکرسو، جنہیں ان کے سوشل میڈیا صارفین ’’مس ریچل‘‘ کے نام سے جانتے ہیں، انسٹاگرام پر بچوں کی تربیت، جذباتی رہنمائی اور والدین کے لیے عملی مشوروں سے بھرپور ویڈیوز شیئر کرتی رہی ہیں۔ ان کی پہچان ایک گلابی ہیربینڈ، ڈینم کا لباس، اور چھوٹے بچوں کے لیے خوشگوار تعلیمی ویڈیوز رہی ہے۔

تاہم 2023 میں ان کا سوشل میڈیا رجحان تعلیم سے ہٹ کر غزہ میں بچوں کو درپیش انسانی بحران کی طرف مڑ گیا۔ ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ، جس نے لاکھوں مداحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا، اب انسانی ہمدردی اور امدادی اپیلوں کا مرکز بن گیا۔ اس اقدام پر بعض حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، حتیٰ کہ ایک وفاقی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے معروف صحافی مہدی حسن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
’’میری نظر میں اصل تنازع یہ ہونا چاہیے کہ کوئی خاموش کیوں ہے۔ جب بچے ناقابلِ بیان مصائب کا سامنا کر رہے ہوں تو ان کے لیے بولنا متنازع کیسے ہو سکتا ہے؟ میرے لیے خاموش رہنا ممکن ہی نہیں تھا۔‘‘

ایک ایسا پلیٹ فارم جو تمام بچوں کے لیے ہے
ریچل اکرسو کے اس طرزِ عمل نے امریکی گھریلو ماحول میں موجود ایک مانوس چہرے کو ایک نئی شکل دی ہے۔ بچوں کے لیے خوش کن اور تعلیمی مواد بنانے والی یہ شخصیت اب اپنے پلیٹ فارم کو والدین تک رسائی کے لیے استعمال کر رہی ہے تاکہ غزہ کے بچوں کی حالتِ زار اجاگر کی جا سکے۔

یہ سرگرمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب غزہ میں اسرائیلی محاصرے کے باعث قحط، فاقہ کشی اور نفسیاتی صدمے نے بچوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں نے صورتحال کو قحط کے قریب قرار دیا ہے، جب کہ خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کئی ماہ تک مسدود رہی۔

غزہ کے لیے وکالت، اور دو انتہاؤں کے بیچ پھنسنا
مئی 2023 میں اکرسو نے ’’سیو دی چلڈرن‘‘ کے لیے فنڈ ریزنگ مہم کا آغاز کیا، جس کے ذریعے 50 ہزار ڈالر جمع کیے گئے۔ لیکن فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی کے اس جذبے پر انہیں اسرائیل مخالف اور یہود دشمن قرار دیا گیا۔

’’اسٹاپ اینٹی سیمیٹزم‘‘ نامی ایک اسرائیل نواز تنظیم نے ان پر ’’حماس کی پروپیگنڈا مشین‘‘ کا حصہ ہونے کا الزام لگایا، حالانکہ اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اکرسو نے ان دو اسرائیلی بچوں کے لیے بھی آواز بلند کی تھی جو غزہ میں قید ہیں۔

اکرسو نے اس تنقید کے جواب میں کہا:
’’تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں فلسطینی بچے قتل ہو چکے ہیں اور اب بھی قتل، معذور اور فاقہ کشی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ تصور کہ ایک گروہ کے بچوں کے لیے فکرمندی کا مطلب دوسرے گروہ سے بےحسی ہے — سراسر غلط ہے۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا:
’’فلسطینی، اسرائیلی، امریکی، مسلم، یہودی، عیسائی — ہر مذہب، ہر ملک کے بچے اہم ہیں۔ کسی کو بھی باہر نہیں رکھا گیا۔‘‘

ایک وسیع تر سیاسی تناظر میں الزامات
اکرسو پر الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ میں غزہ پر جاری جنگ کے اثرات تعلیمی اداروں، دفاتر اور سوشل میڈیا پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ ایک طرف انہیں تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو دوسری جانب ان کے حمایتی انہیں ایک انسان دوست اور ضمیر کی آواز قرار دے رہے ہیں۔

غزہ میں غذائی قلت سے 57 بچوں کی اموات
اس پس منظر میں، گزشتہ ہفتے عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے اعلان کیا کہ 2 مارچ سے جاری امدادی ناکہ بندی کے بعد غذائی قلت کی وجہ سے غزہ میں کم از کم 57 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق یہ اعداد و شمار 13 مئی تک کے ہیں۔

جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی پریس بریفنگ کے دوران ڈبلیو ایچ او کے نمائندے رچرڈ پیپرکورن نے اسے ’’دنیا کے بدترین غذائی بحرانوں میں سے ایک‘‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ انسانی امداد بشمول خوراک و ادویات کی ’’منظم بندش‘‘ اس بحران کا باعث بنی ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، غزہ کی پوری آبادی — یعنی 21 لاکھ افراد — شدید قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔ اپریل اور مئی کے درمیانی عرصے میں 93 فیصد آبادی غذائی بحران کی کیفیت میں داخل ہو چکی ہے، جس میں 2.44 لاکھ افراد مکمل قحط (IPC Phase 5) کا شکار ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو آئندہ 11 ماہ میں 5 سال سے کم عمر کے 71 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جب کہ 17 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین