اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے حالیہ دورے کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں آئندہ بجٹ، مالیاتی اصلاحات اور اقتصادی پالیسیوں سے متعلق تفصیلات بیان کی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے نیتھن پورٹر کی قیادت میں 19 مئی سے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری میں حکومت پاکستان کے ساتھ مشاورت کرنا تھا، تاکہ موجودہ قرض پروگرام کے تحت مالیاتی اصلاحات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
نیتھن پورٹر نے کہا کہ بجٹ سے متعلق پاکستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت مثبت رہی۔ مشن نے مالی سال 2024 کے قرض پروگرام میں متفقہ اصلاحات پر پیش رفت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے تجاویز پر مشاورت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان آئندہ بجٹ میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ بجٹ مشاورت کے دوران ٹیکس آمدن میں اضافے، اخراجات میں ترجیحی بنیادوں پر توازن اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر خصوصی زور دیا گیا۔ پاکستان میں بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی، بنیادی معاشی اصلاحات اور اقتصادی شرح نمو کو مستحکم کرنے سے متعلق بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
آئی ایم ایف نے زور دیا کہ معاشی پالیسی کو مؤثر اور پائیدار بنانے کے لیے اس میں کوئی خلا باقی نہ چھوڑا جائے۔ اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مانیٹری پالیسی کو سخت بناتے ہوئے افراط زر کے طے شدہ ہدف — یعنی 5 سے 7 فیصد کے درمیان — کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔
مزید کہا گیا کہ آئندہ مالی سال میں زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھا جائے، جبکہ کرنسی کا تبادلہ ریٹ مارکیٹ کے تعین کے مطابق رکھا جائے تاکہ بیرونی مالیاتی دباؤ سے نمٹا جا سکے۔
آئی ایم ایف نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں استحکام کے لیے کی گئی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ اعلامیے کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان بات چیت آئندہ بھی مثبت انداز میں جاری رہے گی۔
آئی ایم ایف نے مزید اعلان کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مالیاتی معاملات کے تناظر میں موجودہ قرض پروگرام کے تحت ادارے کا وفد 2025 کی دوسری ششماہی میں دوبارہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔

