اسلام آباد (23 مئی 2025) — ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان اور چین کے صوبہ شانشی کے نائب گورنر کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں پاک چین تعلقات، چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ جات، علاقائی ترقی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعاون، اقتصادی شراکت داری، اور سی پیک کے تحت جاری مختلف منصوبوں کی پیش رفت پر بات چیت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے پاکستان اور چین کے تاریخی اور گہرے تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دوستی ہر آزمائش میں کامیاب رہی ہے اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان قائم باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد کو اہم قرار دیا، جو گہرے سفارتی روابط اور بھائی چارے پر استوار ہے۔
ڈپٹی چیئرمین نے چین کی جانب سے ہر بین الاقوامی اور علاقائی فورم پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کو سراہا اور اسے پاکستان کی ترقی میں ایک قابل اعتماد شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے سی پیک کو ایک گیم چینجر منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور باہمی رابطے کے نئے راستے کھولے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، اور دیگر عالمی خطوں کے ساتھ تجارتی و اقتصادی روابط کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے علاقائی امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ترقی کا راستہ امن سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی قیادت ہر سطح پر ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے رابطہ کاری، خوشحالی، اور ترقی کی علامت ہے۔
ملاقات کے دوران خاص طور پر گوادر پورٹ کا ذکر بھی کیا گیا، جسے ڈپٹی چیئرمین نے جدید بندرگاہ کے طور پر ابھرتے ہوئے عالمی تجارتی مرکز کے طور پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ نہ صرف علاقائی تجارت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک اسٹریٹجک اور تجارتی مرکز کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔
گوادر چین اور پاکستان کے اشتراک سے ایک عالمی بحری اقتصادی مرکز بنتا جا رہا ہے جو مستقبل میں پورے خطے کی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان معاشی، تجارتی اور اقتصادی تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں، اور یہ تعلقات خطے کے پائیدار، روشن اور پرامن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، اور دونوں فریقین نے آئندہ بھی باہمی روابط کے تسلسل اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

