پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامی'ریڈ لائنز' ایران-امریکہ جوہری مذاکرات کے پانچویں دور پر سایہ فگن

‘ریڈ لائنز’ ایران-امریکہ جوہری مذاکرات کے پانچویں دور پر سایہ فگن
'


واشنگٹن اور تہران کے سخت مؤقف، یورینیم کی افزودگی سب سے بڑا تنازع

ایران اور امریکہ تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے پانچویں دور کے لیے تیار ہیں، جب کہ دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی، اسٹیو وٹکوف، جمعہ کے روز روم میں ملاقات کریں گے۔

یہ جاری مذاکرات، جو عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، ایک نئے معاہدے کی کوشش ہیں جس کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے گا اور اس پر عائد بین الاقوامی پابندیاں نرم کی جائیں گی۔ تاہم اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی، اور حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران نے عوامی سطح پر خاصا سخت مؤقف اختیار کیا ہے، خاص طور پر یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر۔

وٹکوف نے کہا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کی افزودگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

تہران، جس نے یورینیم کی افزودگی تقریباً 60 فیصد تک بڑھا دی ہے—جو کہ شہری مقاصد سے کہیں زیادہ ہے لیکن جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد سطح سے کم ہے—نے اس "ریڈ لائن” کو مسترد کر دیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس مطالبے کو "حد سے زیادہ اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جاری مذاکرات سے کسی نتیجے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز کہا کہ واشنگٹن ایک ایسے معاہدے کے لیے کوشاں ہے جس کے تحت ایران کو سول نیوکلیئر توانائی کا پروگرام رکھنے کی اجازت ہو، مگر یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایسا معاہدہ حاصل کرنا "آسان نہیں ہوگا”۔

جمعرات کو امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے تعمیراتی شعبے پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین