پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیچینی اور ڈچ وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات، چھ نکاتی اتفاقِ رائے...

چینی اور ڈچ وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات، چھ نکاتی اتفاقِ رائے حاصل
چ

بیجنگ: چین اور نیدرلینڈز کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات، تعلقات کو فروغ دینے کے لیے چھ نکاتی اتفاقِ رائے

بیجنگ: چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے جمعرات کے روز نیدرلینڈز کے وزیرِ خارجہ کیسپر ویلڈکیمپ سے بیجنگ میں ملاقات کی۔ وانگ ای، جو چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ چین نیدرلینڈز کے ساتھ رابطے کو مزید بڑھانے، عملی تعاون کو گہرا کرنے، اور کثیرالجہتی اشتراک کو مضبوط کرنے کا خواہاں ہے تاکہ چین-یورپی یونین تعلقات کی ترقی، عالمی معیشت کی بحالی، اور عالمی صنعتی و سپلائی چینز کے استحکام میں نئی پیش رفت کی جا سکے۔

وانگ ای نے بتایا کہ چین نے حال ہی میں کئی نئی "اوپننگ اپ” (کھلے پن) کی پالیسیز متعارف کروائی ہیں، اور نیدرلینڈز کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈچ حکومت چینی کمپنیوں کو منصفانہ، غیر امتیازی اور شفاف کاروباری ماحول فراہم کرے گی۔

نیدرلینڈز کے وزیرِ خارجہ ویلڈکیمپ نے کہا کہ ان کا ملک چین کے لیے اپنی "ون چائنا پالیسی” پر قائم ہے اور وہ چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی تبادلوں کو فروغ دینے، عملی تعاون کو گہرا کرنے اور کثیرالجہتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپ اور چین کے درمیان تعلقات نہایت اہمیت کے حامل ہیں، اور نیدرلینڈز یورپی یونین اور چین کے تعلقات کو بہتر بنانے میں فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے باہمی اتفاق رائے سے چھ نکات پر اتفاق کیا، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

  1. اعلیٰ سطحی رابطوں کا تسلسل برقرار رکھنا؛
  2. معیشت، تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت اور آبی تحفظ کے شعبوں میں عملی تعاون کو گہرا کرنا؛
  3. کثیرالجہتی نظام کی حمایت اور فروغ؛
  4. چین-یورپی یونین تعلقات میں بہتری کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا؛
  5. صنعتی و سپلائی چینز کے استحکام کے لیے تعاون؛
  6. چینی کمپنیوں کے لیے منصفانہ کاروباری ماحول کی فراہمی پر زور۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین اور یورپی ممالک کے درمیان تجارتی ضوابط، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاسی مسائل پر تناؤ کی فضا پائی جاتی ہے۔ ایسے میں یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کی جانب ایک مثبت قدم سمجھے جا رہے ہیں۔

اگر آپ ان چھ نکات یا چین-یورپ تعلقات کے تناظر میں مزید تجزیہ چاہتے ہیں تو میں حاضر ہوں۔

دونوں ممالک نے موجودہ مکالماتی ذرائع کے ذریعے سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کثیرالجہتی نظام کی حمایت کا اعادہ کیا، اور وعدہ کیا کہ وہ آزاد تجارت اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) پر مبنی عالمی تجارتی نظام کی پاسداری جاری رکھیں گے۔ اس کے علاوہ، دونوں فریقین نے ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھلاؤ (climate adaptation) اور ماحولیاتی اصلاحات (green transformation) جیسے شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

دونوں جانب سے اس ہدف کی بھی توثیق کی گئی کہ وہ تمام انسانوں، خصوصاً خواتین اور بچیوں، کے مساوی حقوق کے حصول کو مشترکہ طور پر فروغ دیں گے — اور اس کے لیے عالمی سطح پر بڑے اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس میں شامل کسی بھی شعبے جیسے سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، ماحولیاتی اصلاحات، یا صنفی مساوات پر الگ سے تجزیہ یا پس منظر بھی فراہم کر سکتا ہوں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین