پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامییورپی دباؤ میں شدت: اسپین نے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا...

یورپی دباؤ میں شدت: اسپین نے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کردیا
ی


مشرقِ وسطیٰ: اسپین کی نائب وزیر اعظم اور وزیر محنت یولانڈا دیاز نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو پر غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران "جنگی ہتھیار کے طور پر بھوک” کے استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے اسرائیل پر فوری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کے روز اپنے بیان میں یولانڈا دیاز نے کہا، "جنگوں میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے، اور یہی کچھ نیتن یاہو آج کر رہے ہیں۔” انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی نسل کش پالیسیوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔

انہوں نے مزید کہا، "اسرائیل پر پابندیاں لگنی چاہئیں، وہ نسل کش ریاست جو دنیا کے سامنے غزہ میں قتلِ عام کر رہی ہے۔”

اسپینی پارلیمان میں ’غزہ قانون‘ کی منظوری

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپین کی پارلیمان نے ایک غیر پابند، مگر علامتی اہمیت کے حامل اقدام کو منظوری دی ہے جسے غیر رسمی طور پر ’غزہ قانون‘ کہا جا رہا ہے۔

اس قانون کے تحت ایسے فریقین کے خلاف خودکار اسلحہ جاتی پابندیاں عائد کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے جنہیں بین الاقوامی عدالتیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ٹھہرائیں۔ یہ اقدام براہِ راست اسرائیلی ریاست کو ہدف بناتا ہے جو اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری نسل کشی کے سبب شدید عالمی تنقید کی زد میں ہے۔

اپریل میں اسپینی حکومت نے اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی آئی ایم آئی سسٹمز سے 66 لاکھ یورو مالیت کے گولہ بارود کی خریداری کا معاہدہ یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ حکومتی اتحادی جماعتوں — بالخصوص دیاز کی سُمار پارٹی — کے دباؤ کے بعد کیا گیا، جنہوں نے اس معاہدے کو اسپین کی اسرائیل کے ساتھ اسلحہ تجارت روکنے کی پالیسی سے متصادم قرار دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں کی توثیق

اقوامِ متحدہ اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بھوک اور ناکہ بندی کو جنگی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کے خدشات کی توثیق کی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، نسل کشی کے آغاز سے اب تک غزہ میں کم از کم 53,573 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

یورپ میں اسرائیل کے خلاف موقف میں تبدیلی

اسپین کے علاوہ دیگر یورپی ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔ برطانیہ نے حال ہی میں اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی مذاکرات معطل کر دیے ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں سرگرم غیر قانونی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

اسی طرح یورپی یونین نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث اسرائیل کے ساتھ اپنے تعاون کے معاہدے پر نظرِ ثانی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

یہ پیش رفت اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف جاری مظالم کے خلاف یورپ میں ابھرتے ہوئے نئے سیاسی بیانیے کی غماز ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین