چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کی سہ پہر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ اُن کی درخواست پر ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے چین-فرانس تعلقات، چین-یورپ تعاون اور اہم بین الاقوامی و علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
صدر شی نے یاد دلایا کہ گزشتہ مئی اپنے دورۂ فرانس کے دوران دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کی بنیاد رکھنے والے اصولوں—آزادی، باہمی تفہیم، دوراندیشی، اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون—کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تازہ دم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ چین اور فرانس کو اعلیٰ سطحی روابط اور اسٹریٹجک مشاورت کو برقرار رکھتے ہوئے اتفاقِ رائے کو مستحکم کرنا، مواقع سے فائدہ اٹھانا اور باہمی تعاون کو وسعت دینا چاہیے۔
صدر شی نے روایتی شعبوں جیسے سرمایہ کاری، خلائی تحقیق اور جوہری توانائی میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کی حوصلہ افزائی کی، ساتھ ہی ڈیجیٹل معیشت، سبز ترقی، حیاتیاتی ادویہ سازی اور معمر افراد سے متعلق معیشت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں نئے امکانات تلاش کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے عوامی سطح پر روابط کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ دونوں اقوام کے درمیان تفہیم اور دوستی کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
یہ سال دوسری جنگ عظیم میں فتح اور اقوامِ متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ کا بھی حامل ہے۔ اس موقع پر صدر شی نے کہا کہ چین اور فرانس—دونوں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور خودمختار بڑے ممالک—بعد از جنگ عالمی نظام کے بانی اور تعمیری قوتیں ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو اقوامِ متحدہ کے اختیار اور کردار کے تحفظ، عالمی تجارتی اصولوں اور اقتصادی نظم کے دفاع، اور حقیقی کثیرالجہتی کے فروغ کے لیے یکجہتی و تعاون کو مضبوط کرنا چاہیے۔
شی جن پنگ نے کہا: "جتنا پیچیدہ عالمی منظرنامہ بنتا جا رہا ہے، اتنا ہی ضروری ہے کہ چین اور فرانس درست اسٹریٹجک فیصلے کریں اور بین الاقوامی نظام کے تحفظ، عالمی ترقی کے فروغ، اور کثیرالجہتی تعاون کی رہنمائی میں قابلِ اعتماد، کھلے اور ترقی پسند کردار ادا کریں۔”
انہوں نے یورپ کو ایک "خودمختار قطب” کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کی اسٹریٹجک خودمختاری کو فروغ دینے اور عالمی امور میں زیادہ مؤثر کردار کے لیے یورپی یونین کی حمایت کا اعادہ کیا۔
چینی صدر نے کہا کہ چین یورپ کے ساتھ مل کر عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور ایسے نتائج کے حصول کے لیے کام کرنے پر آمادہ ہے جو نہ صرف فریقین بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہوں۔
فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ فرانس-چین اور یورپ-چین تعلقات عالمی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر "ون چائنا” پالیسی کے لیے فرانس کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا، اور کہا کہ بین الاقوامی حالات جیسے بھی ہوں، فرانس کا موقف بدستور قائم رہے گا۔
صدر میکرون نے معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں چین کے ساتھ عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی خواہش ظاہر کی اور دوطرفہ تعلقات کی مثبت رفتار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے چین کے ساتھ بین الاقوامی امور پر رابطہ اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں مشترکہ طور پر ادا کرنی چاہئیں۔
فرانسیسی صدر نے علاقائی تنازعات کی شدت اور دائرہ کار میں اضافے سے بچاؤ کی ضرورت پر زور دیا اور عالمی و علاقائی سطح پر امن و استحکام کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ یورپ اور چین کو باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے مکالمے اور تعاون کو مزید وسعت دینی چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے یوکرین بحران، فلسطین-اسرائیل تنازع، اور ایران کے جوہری معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

