پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیکولمبیا یونیورسٹی: فلسطین کے حامی مظاہرین نے گریجویشن کے دن ڈگریاں نذرِ...

کولمبیا یونیورسٹی: فلسطین کے حامی مظاہرین نے گریجویشن کے دن ڈگریاں نذرِ آتش کر دیں
ک

کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین کے حامی مظاہرین نے اسرائیل سے تعلقات اور سرمایہ کاری پر احتجاج کرتے ہوئے گریجویشن کی تقریب کے بعد اپنی ڈگریاں جلا دیں۔

یونیورسٹی کو شدید تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر اُس وقت جب اس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان مطالبات کے آگے سر جھکایا جن میں انہوں نے 40 کروڑ ڈالر کی وفاقی امداد روکنے اور مزید کٹوتیوں کی دھمکی دی تھی، جس کی وجہ یونیورسٹی کی جانب سے اسرائیل مخالف مظاہروں کے "نامناسب” انتظامات تھے۔

بدھ کے روز گریجویشن تقریب کے بعد مظاہرین جمع ہوئے، “فری فلسطین” کے نعرے لگائے، اور ایک فلسطینی پرچم تھام رکھا تھا جس پر “فری محمود خلیل” درج تھا۔

محمود خلیل، جو کولمبیا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور سرگرم فلسطینی کارکن ہیں، نے گزشتہ برس امریکہ بھر میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے خلاف کیمپس مظاہروں کی قیادت کی تھی۔ انہیں 8 مارچ کو نیویارک میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بارش میں ڈھول کی تھاپ کے ساتھ مظاہرین "فری، فری فلسطین” اور "تم نسل کشی کر رہے ہو” کے نعرے لگاتے رہے۔

مظاہرے کی تصاویر میں طلبہ کو اپنی ڈگریاں جلاتے اور بعض کو ڈگریاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے دیکھا گیا۔

نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) کے مطابق، پولیس نے آگ بجھائی اور ایک شخص کو گرفتار کیا۔

امریکہ کی مختلف جامعات میں ایسے مظاہرے جاری ہیں جن میں غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی اور امریکی فوجی و سیاسی حمایت کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

دو ہفتے قبل، کولمبیا یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک لائبریری پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور انتظامیہ نے مظاہروں کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا۔

صدر ٹرمپ نے غیر ملکی طلبہ کارکنوں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا ہے، جن کا تعلق فلسطین کی حمایت میں مظاہروں سے ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان طلبہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں، کیونکہ وہ محصور غزہ پٹی پر اسرائیل کی مہینوں طویل جنگ کی مذمت کر رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین