پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی وزیر خارجہ: یورپ پابندیاں بحال کر کے سنگین نتائج کا ذمہ...

ایرانی وزیر خارجہ: یورپ پابندیاں بحال کر کے سنگین نتائج کا ذمہ دار ہوگا
ا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 2015 کے جوہری معاہدے میں شامل امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کرنے کے لیے نام نہاد "اسنیپ بیک میکانزم” کا سہارا لیتے ہیں تو انہیں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

بدھ کے روز سعودی عرب کے الاشرق نیوز نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس طرح کا اقدام برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (JCPOA) سے مکمل طور پر علیحدہ کر دے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یورپی ممالک کی جانب سے اس میکانزم کو بروئے کار لانے سے نہ صرف کشیدگی میں شدید اضافہ ہوگا بلکہ ایران کی جانب سے سخت اور ممکنہ طور پر ناقابل واپسی جوابی اقدامات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

عراقچی نے ایران کی سفارتی مذاکرات کے لیے آمادگی کا اعادہ کیا اور امید ظاہر کی کہ یورپی فریقین بھی موجودہ تعطل کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ رویہ اپنائیں گے۔

یہ تعطل اُس وقت پیدا ہوا جب امریکہ نے 2018 میں JCPOA سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی اور معاہدے کے تحت ہٹائی گئی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں۔

اس کے بعد یورپی فریقین نہ صرف امریکہ کو معاہدے میں واپس لانے میں ناکام رہے، جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا، بلکہ انہوں نے بھی واشنگٹن کی تقلید کرتے ہوئے اپنی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں۔

اس "غداری” کے جواب میں ایران نے جوہری اقدامات کا ایک تدریجی اور قانونی سلسلہ شروع کیا۔

عراقچی نے کہا: "موجودہ صورتِ حال ہرگز ایران کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ یہ امریکہ کی JCPOA سے علیحدگی اور یورپی ممالک کی طرف سے اس خلا کو پُر نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔”

’یورینیم افزودگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘

ایران کی پرامن یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ایران کے لیے ایک اصولی اور بنیادی معاملہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یورینیم افزودگی کا پروگرام ایرانی سائنسدانوں کی محنت کا ثمر اور ایک عظیم سائنسی کامیابی ہے، جو ایرانی قوم کے لیے بے حد قیمتی ہے۔

عراقچی نے سات ایرانی جوہری سائنسدانوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا جنہیں اس پرامن جوہری پروگرام میں ان کی بے مثال خدمات کے دوران شہید کیا گیا۔

ان کے بقول، ان سائنسدانوں کی قربانیوں نے جوہری معاملے کو "قطعی طور پر ناقابلِ مذاکرات” بنا دیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین