سیاسی تبدیلی کے لیے مغربی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کی جانے والی پابندیاں اکثر ناکام رہتی ہیں
تحریر: مصطفیٰ فتوری
بین الاقوامی سفارت کاری میں پابندیاں ایک پسندیدہ ہتھیار بن چکی ہیں، جو یا تو جنگ سے بچنے کے لیے یا جب جنگ سیاسی طور پر ناقابل قبول ہو، استعمال کی جاتی ہیں۔ بظاہر ان کا مقصد ممالک کو سیاسی راستہ بدلنے پر مجبور کرنا یا انہیں مغربی طاقتوں کے مطالبات کے آگے جھکنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور کینیڈا پابندیاں عائد کرنے والے سب سے بڑے عناصر ہیں، جن میں بینکاری کی پابندیاں بھی شامل ہیں جو کسی ملک کی پوری آبادی کو متاثر کرتی ہیں۔
تاہم، مکمل معیشتوں کو نشانہ بنانے والی پابندیاں بارہا سیاسی تبدیلی میں ناکام رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ان کے نتیجے میں عام شہری شدید متاثر ہوتے ہیں، جبکہ سیاسی اشرافیہ محفوظ رہتی ہے۔ یہ دراصل پوری آبادی کے خلاف اجتماعی سزا کی شکل اختیار کر جاتی ہیں۔
تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے کہ پابندیوں نے حکومتوں کے بجائے عوام کو زیادہ سزا دی۔ افغانستان، عراق، لیبیا، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اقوام متحدہ، جو امن اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے قائم کی گئی تھی، ایسے اقدامات کو کیسے جواز بخشتی ہے جو اجتماعی مصائب کا سبب بنتے ہیں؟ اقوام متحدہ کے منشور کا دیباچہ کہتا ہے کہ ادارے کا مقصد "تمام اقوام کے اقتصادی اور سماجی فروغ کے لیے بین الاقوامی ذرائع استعمال کرنا” ہے۔ مگر اسی منشور کا آرٹیکل 41 سلامتی کونسل کو پابندیاں عائد کرنے کا مکمل اختیار دیتا ہے، جن میں مواصلات کی معطلی جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
پابندیوں کے پرجوش حامیوں نے ان کے انسانی نقصان کو چھپانے کے لیے انہیں "سمارٹ” یا "ہدفی” پابندیاں قرار دینا شروع کر دیا۔ ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ یہ صرف سیاسی طبقے کو نشانہ بناتی ہیں۔ لیکن حقیقت میں، ایسی پابندیاں اثاثوں کی منجمدی، سفری پابندیاں، معاشی بائیکاٹ، سفارتی تنہائی اور دیگر سزاؤں کی دھمکیوں پر مشتمل ہوتی ہیں، جو عام لوگوں کی زندگی پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔
روس: یوکرین جنگ کے تناظر میں پابندیاں
صدر ولادیمیر پیوٹن اور متعدد تحقیقی مطالعات کے مطابق، روس پر یوکرین تنازعے کے بعد 28,000 سے زائد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ چونکہ روس کے پاس سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار ہے، اس لیے اقوام متحدہ نے کوئی پابندیاں عائد نہیں کیں۔ اس کے بجائے، امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین نے نہ صرف خود پابندیاں لگائیں بلکہ دیگر ممالک پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ ان کی تقلید کریں۔ ان کا مقصد روسی معیشت کو مفلوج کر کے ماسکو کو جنگ کے خاتمے پر مجبور کرنا تھا۔
کچھ پابندیاں مضحکہ خیز حد تک عجیب تھیں: روسی بلیوں پر بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت پر پابندی، گرینڈ پیانو، زین، امریکی چبانے والا تمباکو، اسنیف، تمباکو کی باقیات، امریکی چمکتی شراب، اور ڈزنی کا کارٹون فلم ‘ٹرننگ ریڈ’ بھی پابندی کی زد میں آئے۔ ان چیزوں کا یوکرین جنگ سے تعلق سمجھنا مشکل ہے۔
یورپی یونین میں روسی میڈیا پر پابندی، آزادیٔ اظہار کے مغربی دعووں کے برخلاف ہے۔ 2022 سے پہلے پیرس میں روسی اخبار ‘ازویستیا’ دستیاب تھا، مگر اب نہیں۔ یورپی عوام روس سے متعلق یک طرفہ بیانیہ سننے پر مجبور ہیں۔
اگرچہ بعض شعبوں جیسے ٹرانسپورٹ اور الیکٹرانک ادائیگیوں پر پابندیاں عام شہریوں کو متاثر کرتی ہیں، مجموعی طور پر یہ پابندیاں روسی حکومت کو کمزور کرنے یا صدر پیوٹن کو ہٹانے میں ناکام رہی ہیں۔
لیبیا: لوکربی پابندیوں کی قیمت
لیبیا ان ممالک میں شامل ہے جہاں مکمل قومی سطح پر پابندیاں نافذ کی گئیں۔ چونکہ لیبیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن نہیں، اس لیے اس پر زیادہ تر پابندیاں سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت لازم ہوئیں۔
1988 میں امریکہ اور برطانیہ نے لیبیا پر پان ایم فلائٹ 103 کو تباہ کرنے کا الزام لگایا، جس میں 270 افراد ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں لیبیا پر فضائی سفر، اثاثوں کی منجمدی، اور تجارتی پابندیاں عائد کی گئیں۔ مقصد قذافی حکومت کو گرانا اور مشتبہ افراد کو حوالے کرنا تھا۔ یہ پابندیاں 1992 سے 2003 تک نافذ رہیں۔
ایک عجیب مثال یہ ہے کہ مالٹا یونیورسٹی میں پڑھنے والا امریکی طالبعلم یونیورسٹی کی واحد کیفے سے کچھ خریدتا تو اس پر قانونی چارہ جوئی ممکن تھی، کیونکہ وہ کیفے لیبیا کی ایک کمپنی کی ملکیت تھی!
عراق: انسانی المیہ
پابندیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مثال عراق ہے۔ اگست 1990 میں کویت پر حملے کے بعد پابندیاں عائد ہوئیں، جو صدام حسین کی حکومت ختم کرنے میں ناکام رہیں۔ 2003 میں بغیر اقوام متحدہ کی اجازت کے امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر حملہ کیا، مگر اس سے قبل ان پابندیوں کو مزید سخت کر دیا گیا۔
چپکنے والے کاغذ، ایلومینیم فویل، کتابیں، چشمے، پنکھے، کیلکولیٹر، اور قالین تک پر پابندی لگا دی گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان پابندیوں کی وجہ سے 500,000 سے زیادہ بچے ہلاک ہوئے، بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد 570,000 تھی۔ مجموعی طور پر اندازاً 1.5 ملین عراقی ان پابندیوں کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔
1996 میں امریکی وزیر خارجہ میڈلین آلبرائٹ نے اعتراف کیا کہ "یہ قیمت چکانا قابل قبول ہے۔”
افغانستان: مسلسل پابندیاں
طالبان کے 1990 کی دہائی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اقوام متحدہ کی قرارداد 1267 کے تحت فضائی سفر اور اثاثوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ 2021 میں طالبان کی فتح کے بعد بھی ان پابندیوں کو ختم کرنے کے بجائے "سمارٹ پابندیوں” میں بدلا گیا، جو درحقیقت عام افغان شہریوں کو متاثر کرتی رہیں۔
2022 میں امریکی حکومت نے افغان مرکزی بینک کے 7 ارب ڈالر ضبط کر لیے۔ آج افغانستان میں انسانی امداد محدود ہے، اور جنگ زدہ عوام کی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں، جبکہ طالبان حکومت اب بھی قائم ہے۔
اسرائیل کی غزہ پر مکمل ناکہ بندی
امریکہ کا اتحادی اسرائیل بھی اجتماعی پابندیاں نافذ کرتا ہے۔ 2006 سے غزہ پر مکمل ناکہ بندی جاری ہے، حتیٰ کہ چاکلیٹ، کھلونے، مصالحہ جات اور سلائی مشینیں بھی سیکیورٹی وجوہات کے تحت ممنوع ہیں۔ اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل نے خوراک، پانی، بجلی، دوائیں اور ہر طرح کی مشینری کی فراہمی بند کر دی۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور عالمی فوجداری عدالت میں اس مکمل ناکہ بندی کے خلاف کئی مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
خلاصہ:
اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 41 پابندیوں کو جنگ سے بچاؤ اور امن کے قیام کا ذریعہ قرار دیتا ہے، مگر اجتماعی پابندیوں پر شدید اخلاقی سوالات اٹھتے ہیں۔ ناقدین انہیں "اجتماعی سزا” اور بعض اوقات "سست رفتار نسل کشی” قرار دیتے ہیں۔ تاریخی شواہد یہی بتاتے ہیں کہ پابندیاں سیاسی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں، مگر عام عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔ اکثر صورتوں میں یہ مغربی بالادستی کا مظہر بن جاتی ہیں۔

