پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامی’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام کیا ہے، جس کا اعلان ٹرمپ نے کیا؟

’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام کیا ہے، جس کا اعلان ٹرمپ نے کیا؟

175 ارب ڈالر کا یہ خلائی منصوبہ فضا سے حملوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن چین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے گا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ’’گولڈن ڈوم‘‘ کے نام سے ایک کثیر سطحی میزائل دفاعی نظام کے لیے 175 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کا انتخاب کیا ہے، جو فضا سے آنے والے حملوں کے خلاف تحفظ فراہم کرے گا، چاہے وہ حملے خلا سے ہی کیوں نہ کیے جائیں۔

اس منصوبے کے تحت، امریکہ خلا میں میزائل انٹرسیپٹرز (روکنے والے نظام) نصب کرے گا تاکہ بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائل حملوں کو روکا جا سکے۔

ٹرمپ نے کیا اعلان کیا؟
ٹرمپ نے منگل کو 25 ارب ڈالر کی ابتدائی فنڈنگ کا اعلان کیا، جبکہ پورے منصوبے کی تکمیل کا ہدف 2029 یعنی ان کی موجودہ مدت صدارت کے اختتام تک رکھا گیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا، ’’جب یہ نظام مکمل طور پر تیار ہو جائے گا تو یہ دنیا کے کسی بھی کونے سے داغے گئے میزائلوں، حتیٰ کہ خلا سے لانچ کیے گئے میزائلوں کو بھی روکنے کی صلاحیت رکھے گا۔ یہ ہمارے ملک کی کامیابی بلکہ بقا کے لیے نہایت اہم ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکی اسپیس فورس کے جنرل مائیکل گیوٹلین اس منصوبے کے سربراہ ہوں گے اور اس کی پیشرفت کی نگرانی کریں گے۔

ٹرمپ نے مزید کہا، ’’میں نے امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ میں ان کے لیے جدید ترین میزائل دفاعی ڈھال تعمیر کروں گا تاکہ غیر ملکی میزائل حملے سے تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

انہوں نے انکشاف کیا کہ ’’کینیڈا نے ہم سے رابطہ کیا ہے اور وہ بھی اس منصوبے میں شامل ہونا چاہتا ہے، اس سلسلے میں بات چیت جاری رہے گی۔‘‘

گولڈن ڈوم منصوبہ کیا ہے؟
ٹرمپ کے مطابق یہ نظام ہائپرسونک، بیلسٹک اور ایڈوانسڈ کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور اس میں خلا میں نصب انٹرسیپٹرز اور سینسرز شامل ہوں گے۔

پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ، جو ٹرمپ کے ہمراہ موجود تھے، نے کہا کہ یہ نظام "کروز، بیلسٹک، ہائپرسونک میزائلوں، ڈرونز، خواہ وہ روایتی ہوں یا جوہری، سب سے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے” بنایا گیا ہے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب رواں سال 27 جنوری کو ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت "آئرن ڈوم” کی طرز پر جدید ترین میزائل دفاعی نظام کی فوری تعمیر کا حکم دیا گیا تھا۔

آئرن ڈوم اسرائیل کا دفاعی نظام ہے جو کسی بھی راکٹ کے آنے کا پتا لگاتا ہے، اس کے راستے کا تعین کرتا ہے، اور پھر اسے فضا میں ہی تباہ کر دیتا ہے۔ اس کی تیاری امریکی امداد سے ہوئی تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ دفاعی ٹیکنالوجی کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے گا، اور منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 175 ارب ڈالر ہو گی۔

وائٹ ہاؤس نے اس منصوبے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس کا ڈیزائن امریکہ میں تیار ہوگا، تاہم اس میں شامل کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

خلائی دفاعی نظام کا تصور سب سے پہلے سابق صدر رونالڈ ریگن نے پیش کیا تھا، جنہوں نے سرد جنگ کے دوران "اسٹریٹجک ڈیفنس انیشی ایٹو” یا "سٹار وارز” منصوبے کے تحت خلا میں ہتھیاروں کی تنصیب کا نظریہ دیا تھا۔

ٹرمپ نے کہا، ’’ہم وہ کام مکمل کر رہے ہیں جو صدر ریگن نے 40 سال قبل شروع کیا تھا، اور یوں امریکی سرزمین کو میزائل خطرات سے ہمیشہ کے لیے محفوظ بنائیں گے۔‘‘

کیا گولڈن ڈوم منصوبہ قابلِ عمل ہے؟
ماہرین نے منصوبے کی مدت اور بجٹ پر سوال اٹھائے ہیں۔

ابھی تک اس منصوبے کے لیے مکمل فنڈنگ منظور نہیں ہوئی۔ ٹرمپ نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ وہ 25 ارب ڈالر کی ابتدائی رقم کے لیے کانگریس میں زیر غور ٹیکس کٹ بل کے ذریعے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس رقم میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ٹرمپ کو منصوبے کے تین مختلف ورژن پیش کیے گئے تھے جنہیں "درمیانہ”، "بلند”، اور "انتہائی بلند” قرار دیا گیا۔ یہ ورژن خلا میں نصب کیے جانے والے سیٹلائٹس، سینسرز، اور انٹرسیپٹرز کی تعداد کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ ٹرمپ نے "بلند” ورژن کا انتخاب کیا جس کی ابتدائی لاگت 30 سے 100 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔

سی ایس آئی ایس کے دفاعی ماہر ٹام کراکو نے رائٹرز کو بتایا، ’’175 ارب ڈالر نئی اطلاع ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ رقم کتنے عرصے میں خرچ ہو گی۔ ممکن ہے یہ مدت 10 سال ہو۔‘‘

یکم مئی کو امریکی کانگریس کے 42 ڈیموکریٹک ارکان نے ایک خط میں ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی ممکنہ شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا۔

خط میں کہا گیا، ’’اگر مسٹر مسک نے گولڈن ڈوم کے معاہدے پر غیر مناسب اثر و رسوخ استعمال کیا تو یہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق اصولوں کی خلاف ورزی کا ایک اور تشویشناک نمونہ ہوگا۔‘‘

چین اور روس کا ردعمل کیا تھا؟
امریکہ اپنے اہم حریفوں، چین اور روس، کو بڑھتا ہوا خطرہ سمجھتا ہے۔

گزشتہ دہائیوں میں چین نے بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کی ہے، جبکہ روس کے پاس دنیا کے سب سے جدید بین البراعظمی میزائل سسٹمز موجود ہیں۔ دنیا کے دو بڑے جوہری ذخائر بھی انہی دونوں ممالک کے پاس ہیں۔

ٹیکنالوجی میں پیش رفت کے بعد ڈرونز کے خطرے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

چین نے گولڈن ڈوم کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے امریکہ پر اسلحہ کی دوڑ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماو نِنگ نے بریفنگ میں کہا، ’’امریکہ صرف اپنے مفادات کو مقدم سمجھتا ہے اور مطلق سکیورٹی کے جنون میں مبتلا ہے، جو اس اصول کے خلاف ہے کہ کسی بھی ملک کی سکیورٹی دوسروں کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’یہ منصوبہ خلا کو میدان جنگ بنانے کے خطرے کو بڑھاتا ہے، ہتھیاروں کی دوڑ کو ہوا دیتا ہے اور عالمی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘

روسی کریملن نے اس منصوبے کو امریکہ کا "خودمختار معاملہ” قرار دیا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بدھ کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ امریکہ کا خودمختار معاملہ ہے۔ اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے میزائل خطرہ لاحق ہے تو وہ یقیناً دفاعی نظام تیار کرے گا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہی وہ کام ہے جو دنیا کے تمام ممالک کرتے ہیں۔‘‘

پیسکوف نے یہ بھی کہا، ’’یقیناً مستقبل قریب میں حالات ہمیں اس جانب لے جائیں گے کہ اسٹریٹجک استحکام کی بحالی کے لیے رابطوں کا ازسرنو آغاز کیا جائے۔‘‘

مقبول مضامین

مقبول مضامین