پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیبھارت کی دوبارہ آبی دہشتگردی، نیلم کا پانی روک لیا گیا

بھارت کی دوبارہ آبی دہشتگردی، نیلم کا پانی روک لیا گیا
ب

بھارت نے جنگ بندی کے باوجود ایک بار پھر آبی دہشت گردی کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم کا پانی روک لیا ہے، جس کے نتیجے میں دریائے نیلم میں پانی کا بہاؤ تقریباً 40 فیصد کم ہو گیا ہے۔ یہ معلومات نیوز ذرائع نے فراہم کی ہیں۔ بھارت کی اس کارروائی نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے خاص طور پر مظفرآباد اور اس کے اطراف کے لوگوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

موسم گرما میں گلیشئرز کے پگھلنے سے دریائے نیلم کا پانی عام طور پر بلند رہتا ہے، مگر بھارت کی جانب سے پانی روکنے یا چھوڑنے کی غیر متوقع کارروائیوں کی وجہ سے پانی کی سطح میں غیر معمولی تبدیلیاں آتی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں بھی بھارت نے کشن گنگا ڈیم سے اضافی پانی چھوڑ کر دریائے نیلم کی سطح اچانک بلند کی تھی، جس سے سیاحوں اور مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

یہ واقعہ 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں آیا۔ 26 اپریل کو بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مظفرآباد کے علاقے ہٹیاں بالا میں دریائے جہلم میں اچانک پانی چھوڑ دیا تھا، جس کے بعد مظفرآباد انتظامیہ نے فوری طور پر آبی ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ دریائے جہلم میں پانی کی سطح اتنی زیادہ بڑھ گئی تھی کہ اس سے کنارے کی بستیوں میں رہنے والے لوگوں میں شدید خوف و پریشانی پھیل گئی تھی۔

اننت ناگ سے نکل کر اڑی کے چکوٹھی علاقے میں داخل ہونے والے دریائے جہلم میں اچانک شدید طغیانی آگئی تھی، جس کی وجہ سے مساجد میں بھی اعلانات کیے گئے تاکہ عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی جا سکے۔

بھارتی حکومت کی یہ آبی جارحیت خطے کی امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور مقامی لوگوں کی زندگیوں اور زرعی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، اس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان حکومت اور متعلقہ ادارے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور عالمی برادری سے بھارت کی اس جارحیت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ، بھارت نے دیگر کئی سخت اقدامات اور اعلانات کیے تھے جن کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈالنا اور کشیدگی کو بڑھانا تھا۔

یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا گئے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ، جو دریاؤں کے پانی کے انتظام کا بنیادی معاہدہ ہے، کی معطلی سے پانی کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں اور دونوں طرف کے عوام کو اس کا منفی اثر پہنچ سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین