بیجنگ:
پاکستان کی تل کے بیج کی چین کو برآمدات نے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے جنوری سے اپریل 2025 کے دوران تقریباً 49 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت میں نمایاں ترقی کی علامت ہے۔پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے اس ترقی کا سہرا ملکی جدت کاری اور چین میں معیاری درآمدات کی بڑھتی ہوئی طلب کو دیا۔ انہوں نے ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (AARI) اور اس کے آئل سیڈز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ORI) ٹیم کے کردار کی بھی تعریف کی، جنہوں نے بہتر بیج کی اقسام اور جدید کاشتکاری تکنیکوں کے ذریعے پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، "بیج کی بہتر اقسام اور تحقیق پر مبنی کاشتکاری تکنیکوں جیسے فراہمی والے عوامل نے اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اس ریکارڈ توڑ رجحان کی اصل وجہ چین میں صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب، اعلیٰ معیار کی درآمدات کی پسند اور مسابقتی قیمتیں ہیں۔”پاکستان کی چین میں تل کے بیج کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 2019 میں پاکستان اس مارکیٹ میں 14ویں نمبر پر تھا جہاں اس کی برآمدات 4.6 ملین ڈالر تھیں۔ مگر 2024 تک اس نے قدر کے لحاظ سے تیسری پوزیشن حاصل کرلی، جس کی برآمدات 226.53 ملین ڈالر تھیں، جبکہ مقدار کے لحاظ سے دوسری پوزیشن پر تھا جہاں 177,640 ٹن تل برآمد کیا گیا۔ جنوری سے اپریل 2025 کے دوران برآمدات 38,828 ٹن تک پہنچ گئیں جن کی مالیت 48.58 ملین ڈالر تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 337 فیصد کا اضافہ ہے۔ گپال کھموانی، چیئرمین پاکستان سیسمی ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، نے پاکستان کے اوسط برآمدی قیمت $1,300 فی ٹن، سمندر اور زمینی راستے کے ذریعے 15 سے 20 دن کی تیز ترسیل اور 5 سے 10 دن کی پروسیسنگ وقت کو اس کامیابی کی وجوہات قرار دیا۔
خلیل ہاشمی نے تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے بہتر بیج کی کوالٹی، ویلیو ایڈیڈ پراسیسنگ، ای-کامرس کے فروغ اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے ایک حکمت عملی پیش کی۔ انہوں نے کہا، "ہمارا مقصد صرف خام مال کی برآمدات سے آگے بڑھنا اور چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تل پر مبنی مصنوعات کی مارکیٹ، جس کی مالیت سالانہ 4.7 سے 9.5 بلین ڈالر کے درمیان ہے، میں حصہ لینا ہونا چاہیے۔” انہوں نے ستمبر 2024 میں ہونے والے تجارتی ایونٹ کا بھی ذکر کیا جس میں 28 ملین ڈالر کے سودے طے پائے اور چین میں 177 پاکستانی تل کی کمپنیوں کی رجسٹریشن کا بھی حوالہ دیا۔
خلیل ہاشمی نے کہا،
"ہمارا چین کے ساتھ تل کا تجارت صرف برآمدات کی کہانی نہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی کا خاکہ ہے۔”

