(CPEC) پاکستان، چین اور افغانستان کا سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے اور علاقائی روابط بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد (22 مئی 2025) – پاکستان اور چین نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا ہے، اور علاقائی روابط و معاشی تعاون کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چینی وزیر خارجہ اور سی پی سی پولیٹیکل بیورو کے رکن وانگ ای، اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بیجنگ میں ایک غیر رسمی سہ فریقی ملاقات کی۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق: "تینوں وزرائے خارجہ نے سہ فریقی تعاون کو علاقائی سلامتی اور اقتصادی رابطے کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔”
ملاقات میں سفارتی روابط اور عملی اقدامات کے ذریعے تجارت، بنیادی ڈھانچے، اور ترقی کو مشترکہ خوشحالی کے محرکات کے طور پر فروغ دینے پر زور دیا گیا۔
ملاقات کا ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے اور باضابطہ طور پر سی پیک کو افغانستان تک وسعت دینے پر اتفاق ہوا، جس سے خطے میں انضمام اور اقتصادی مواقع بڑھنے کی توقع ہے۔
وزرائے خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم اور خطے میں استحکام و ترقی کے فروغ پر بھی زور دیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق، یہ بھی طے پایا کہ چھٹی سہ فریقی وزرائے خارجہ کی ملاقات جلد از جلد کابل میں ایک متفقہ تاریخ پر منعقد کی جائے گی۔
علاوہ ازیں، نائب وزیر اعظم ڈار نے بیجنگ کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ متقی سے علیحدہ ملاقات بھی کی، جس میں کابل کے حالیہ دورے کا حوالہ دیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، تجارتی، اور ٹرانزٹ سہولت میں مثبت پیشرفت کا خیرمقدم کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے تجارت، ٹرانزٹ، رابطہ کاری، اور سلامتی سمیت اہم شعبوں میں باہمی مفادات کو فروغ دینے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
بھارت سے متعلق پیش رفت:
وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں ہو سکتے ہیں، جن میں امریکہ بطور کلیدی ثالث کردار ادا کرے گا۔ وزیر اعظم نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ افواج جنگ سے پہلے کی پوزیشنوں پر واپس جائیں گی۔
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ بھارت نے اب تک کسی تیسرے ملک کے ذریعے مذاکرات پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات میں کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی کے چار نکات اٹھائے گا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینا ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں فیلڈ مارشل کے اعزاز میں گارڈ آف آنر کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے برطانوی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور بھارت جیسے ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ ایک "انتہائی احمقانہ خیال” ہے اور اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو تیار ہے۔
انہوں نے بھارت کے "تکبر” پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ جھوٹے بیانیے کی بنیاد پر "آگ سے کھیل رہا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن کا جشن منا رہا ہے۔
سفارتی کشیدگی:
بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو "ناپسندیدہ شخصیت” قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ بھارتی حکومت کے مطابق، مذکورہ اہلکار "سفارتی ذمے داریوں کے منافی سرگرمیوں” میں ملوث تھا۔
جواباً، پاکستان نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو اسی بنیاد پر ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا اور اسے بھی 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی۔ اس حوالے سے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر باضابطہ آگاہ کیا گیا۔
بلاول بھٹو کا مؤقف:
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی تشویش ناک ہے، اور اسے عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا: "اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا اور پانی دوسرا فلیش پوائنٹ بن گیا تو آئندہ نسلیں کہیں زیادہ خطرناک اور افسوسناک تصادم کی شکار ہوں گی۔”
انہوں نے کہا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کے اثرات صرف انہی ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ بلاول نے دنیا کے مختلف ممالک کے دارالحکومتوں کے دورے کا بھی اعلان کیا تاکہ پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔

