اسلام آباد:
پاکستان نے منگل کو اسرائیل کی جانب سے غزہ میں صحت کی سہولیات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور غزہ کے پورے علاقے پر قبضے کے اسرائیلی اعلان کو خطے میں امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، یہ بات دفتر خارجہ کے بیان میں کہی گئی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا کہ "غزہ میں اسرائیلی زمینی کارروائیوں کا پھیلاؤ اور پورے غزہ پر قبضے کا اعلان خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ "پاکستان غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت، اسپتالوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور بڑے پیمانے پر انخلاء کے احکامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔”
گذشتہ ہفتے، اسرائیلی فضائی حملوں نے غزہ کے یورپیئن اور ناصر اسپتالوں کو نشانہ بنایا، جس سے ہلاکتیں ہوئیں اور طبی خدمات متاثر ہوئیں۔ چند دن بعد، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے اعلان کیا کہ اسرائیل غزہ پٹی کا مکمل کنٹرول حاصل کرے گا۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے لاکھوں فلسطینیوں کو انسانی امداد کی رسائی روکنا "اجتماعی سزا” کے مترادف ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس کے اس بیان کو بھی اجاگر کیا گیا جس میں انہوں نے غزہ کی صورت حال پر تشویش ظاہر کی، جہاں ہر پانچ میں سے ایک شخص بھوک کا شکار ہے اور باقی آبادی کو قحط کا خطرہ لاحق ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی مظالم کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرے اور فلسطینیوں کو انسانی امداد کی فراہمی کے اقدامات کرے۔
بیان میں کہا گیا، "پاکستان کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کرتا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنا، غیر قانونی اسرائیلی بستیاں بڑھانا یا کسی بھی علاقے کو الحاق کرنا ہو۔

