چین نے پاک فضائیہ کی بے مثال عملی مہارت کو سراہا
اسلام آباد: چین نے مشرقی سرحد پر حالیہ کشیدگی کے دوران پاک فضائیہ (PAF) کی بے مثال عملی مہارت کو سراہتے ہوئے اسے قومی دفاع کے لیے پاک فضائیہ کے اعلیٰ معیار اور غیر متزلزل عزم کا مظہر قرار دیا ہے۔
یہ اظہار پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کے دوران کیا۔ چینی سفیر نے دشمن کی جارحیت کو ناکام بنانے میں چینی ساختہ ساز و سامان اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہا۔
انہوں نے موجودہ قیادت کے تحت قومی مفادات کے تحفظ اور ممکنہ خطرات کی روک تھام کے لیے مقامی حل اور جدید نظاموں کے استعمال میں پاک فضائیہ کی عملی صلاحیت اور تزویراتی فہم کی بھی تعریف کی۔
چینی سفیر نے پاکستان کے لیے چین کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پاک فضائیہ کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل تکنیکی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
چین نے خودانحصاری کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا، پاک فضائیہ کی مقامی ترقی کی کوششوں کی تعریف
چینی سفیر نے پاکستان کے خودانحصاری کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کی مقامی سطح پر ترقیاتی عمل میں سرمایہ کاری اب مثبت نتائج دینا شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی ٹیکنالوجی کی ترقی پر مسلسل توجہ دینا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے چینی سفیر کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور چین تاریخی اور آزمودہ تعلقات کے حامل ہیں، جن کی بنیاد باہمی اعتماد، اسٹریٹجک ہم آہنگی اور علاقائی امن و استحکام کے مشترکہ خوابوں پر ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کو "آہنی بھائی” قرار دیا اور کہا کہ یہ رشتہ دہائیوں پر محیط ہے اور مستقبل میں باہمی تعاون و شراکت داری کے ذریعے مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔
انہوں نے پاکستان کے دفاعی شعبے کی جدیدیت اور تکنیکی ترقی میں چین کے کردار کو سراہا، خاص طور پر انسانی وسائل کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور مشترکہ تحقیق و ترقی کے شعبوں میں چین کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں معزز شخصیات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اعلیٰ سطحی روابط کو باقاعدہ بنانے، مشترکہ جنگی مشقوں میں توسیع اور ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی ردعمل کے کثیر جہتی فریم ورکس کو تلاش کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔

