پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیخفیہ اسرائیلی آپریشن ناکام، فلسطینی کمانڈر شہید

خفیہ اسرائیلی آپریشن ناکام، فلسطینی کمانڈر شہید
خ

تہران: غزہ میں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کی خفیہ کارروائی ناکامی سے دوچار ہوگئی۔

عبرانی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی قابض افواج (IOF) کا ایک خفیہ یونٹ فلسطینی مہاجر خواتین کا روپ دھار کر جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں داخل ہوا۔ کارروائی کا مقصد اسرائیلی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر یرغمالیوں کی بازیابی تھا، تاہم وہ کسی بھی یرغمالی کو بازیاب نہ کر سکے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق، یہ یونٹ صلاح الدین سٹریٹ کے مغربی حصے سے خان یونس کے شمال میں داخل ہوا۔ تاہم کارروائی اپنے مقاصد میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ اسرائیلی فورسز نے اس دوران ایک فلسطینی شہری کو شہید کر دیا اور اُس کی بیوی اور بچے کو اغوا کر لیا۔

شہید ہونے والے شخص کی شناخت احمد سرحان کے نام سے ہوئی ہے، جو عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے کمانڈر تھے۔ ذرائع کے مطابق، احمد سرحان نے گرفتاری اور تفتیش سے بچنے کے لیے آخر وقت تک مزاحمت کی اور شہید ہو گئے۔

اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹ "والا” نے رپورٹ کیا کہ اس خصوصی آپریشن کی بریفنگ ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کو دی گئی تھی۔ تاہم عبرانی ذرائع ابلاغ نے اس کارروائی کو سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کی بڑی ناکامی قرار دیا۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، اس آپریشن کا ایک ثانوی مقصد احمد سرحان کو زندہ گرفتار کرنا تھا تاکہ مزاحمت کے اہم راز حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم ان کی شہادت اس مقصد کے حصول میں بھی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

الناصر صلاح الدین بریگیڈز، جو عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کا عسکری ونگ ہے، نے ایک بیان میں احمد سرحان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں اپنی خصوصی کارروائیوں کے سربراہ اور صفِ اول کے رہنما کے طور پر خراج تحسین پیش کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ احمد سرحان پیر کے روز خان یونس میں اسرائیلی خصوصی افواج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوئے۔ بریگیڈز نے ان کی "شجاعت اور جہاد و مزاحمت کے ورثے” کو سراہتے ہوئے کہا کہ رہنماؤں کے قتل مزاحمت کے عزم کو کمزور نہیں کریں گے بلکہ "ہمارے جہاد اور مزاحمت کے راستے کو جاری رکھنے کے عزم کو مزید مضبوط کریں گے جب تک کہ صہیونی وجود کا خاتمہ نہ ہو جائے۔”

اس کارروائی کی ناکامی کے بعد اسرائیلی فوج نے خان یونس کے باسیوں کو جبری انخلا کے احکامات جاری کر دیے، جو غزہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیلی حکومت غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی بڑی وجہ عوام کی مسلسل حمایت یافتہ مزاحمت ہے، باوجود اس کے کہ وہ شدید محاصرے، قحط اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

فوجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیلی افواج کے سربراہ کو ان محدودات کا ادراک ہے اور وہ سیاسی متبادل پر زور دے رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج نے غزہ کے شمالی و جنوبی علاقوں میں نئے زمینی حملے کا آغاز کیا ہے، جسے وہ "آپریشن گیڈیئنز چاریٹس” کا نام دے رہی ہے۔

اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج نے کئی بار غزہ میں زمینی کارروائیاں کی ہیں، لیکن وہ اپنے اعلانیہ جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

قابض اسرائیلی حکومت غزہ میں اپنی نسل کشی کی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ پیر کے روز جنوبی علاقوں پر شدید بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 46 فلسطینی شہید ہوئے۔ خان یونس میں محض چند گھنٹوں میں 40 فضائی حملے کیے گئے جن میں "فائر بیلٹس” بھی استعمال کی گئیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین