پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیخطرناک ایپس سے ڈیٹا چوری، سائبر سیکیورٹی وارننگ جاری

خطرناک ایپس سے ڈیٹا چوری، سائبر سیکیورٹی وارننگ جاری
خ

اسلام آباد — گوگل پلے اسٹور پر دستیاب بعض موبائل ایپس کے حوالے سے سنگین انکشاف سامنے آیا ہے جن کے ذریعے صارفین کی ذاتی معلومات اور مالیاتی ڈیٹا چوری کیا جا رہا ہے۔ نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ (NTISB)، جو کابینہ ڈویژن کے تحت کام کرتا ہے، نے اس حوالے سے تفصیلی سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے۔

ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ کچھ مخصوص ایپس صارفین کی کال ہسٹری، لوکیشن، آڈیو، ویڈیوز، اور اسکرین شاٹس تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ یہ ایپس بظاہر فائل منیجر یا سیکیورٹی ٹولز کے طور پر پیش کی گئی تھیں لیکن درحقیقت یہ جاسوس سافٹ ویئر اور ٹروجن جیسے کہ کو اسپائی، اسپائی ویئر اور اناتسا بینکنگ ٹروجن (ٹی باٹ) پر مشتمل تھیں، جو حساس معلومات چوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان سائبر حملوں کے پیچھے شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپس APT-37 اور APT-43 کا ہاتھ ہے، جو ان ایپس کے ذریعے نہ صرف افراد بلکہ سرکاری اداروں اور وزارتوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ گوگل نے مارچ میں ایسی درجنوں ایپس کو پلے اسٹور سے ہٹا دیا تھا، تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ ایپس پہلے ہی 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد بار ڈاؤن لوڈ ہو چکی تھیں، جس سے وسیع پیمانے پر ڈیٹا کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ایڈوائزری میں تمام صارفین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر مشتبہ ایپس کو اپنے موبائل فونز سے حذف کریں، صرف قابلِ اعتماد ڈویلپرز کی ایپس انسٹال کریں، انسٹالیشن سے قبل ایپ کی اجازتوں اور تفصیلات کا بغور جائزہ لیں، اور گوگل پلے پروٹیکٹ کو ہر وقت فعال رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی بروقت شناخت ہو سکے۔

سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری کا مقصد وزارتوں، سرکاری اداروں اور عام شہریوں کو موجودہ ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں کے باعث نہ صرف نجی معلومات افشا ہو سکتی ہیں بلکہ مالی نقصان کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ تمام متعلقہ فریقوں سے ایڈوائزری پر سختی سے عملدرآمد کی اپیل کی گئی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین