تہران: ایران نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ علاقائی جوہری ایندھن کے کنسورشیم کے قیام کا خیرمقدم کرے گا، تاہم واضح کیا کہ ایسی کسی بھی کوشش کا مقصد اس کے یورینیم افزودگی پروگرام کی جگہ لینا نہیں ہوگا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے حالیہ بالواسطہ جوہری مذاکرات کے دوران واشنگٹن کو یہ تجویز دی تھی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تردید کی کہ ایران نے باضابطہ طور پر کنسورشیم کی کوئی تجویز دی ہے، اور کہا کہ اس خیال کا ذکر ماضی میں دیگر ممالک کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کوئی اقدام سامنے آتا ہے تو ایران اس میں ضرور شرکت کرے گا، خاص طور پر اس لیے کہ خطے کے دیگر ممالک بھی جوہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
بقائی نے زور دے کر کہا کہ ایسا کوئی کنسورشیم ایران کی جاری افزودگی سرگرمیوں کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ تہران بارہا یہ موقف دہرا چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام غیر مذاکراتی ہے اور صرف پرامن توانائی کے مقاصد کے لیے ہے۔
حالیہ دنوں نیویارک ٹائمز نے بعض نامعلوم ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ تہران نے عرب ممالک اور امریکی سرمایہ کاری پر مشتمل ایک مشترکہ افزودگی منصوبہ تجویز کیا ہے، جسے امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل بندش کے مطالبے کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ جوہری معاہدہ ہو یا نہ ہو، افزودگی کا عمل جاری رہے گا۔ ان کا یہ بیان امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف کے اس بیان کے بعد آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کو افزودگی کی معمولی صلاحیت بھی رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
ایران اس وقت یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے، جو کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت مقرر 3.67 فیصد کی حد سے کہیں زیادہ ہے، تاہم ابھی بھی ہتھیاروں کے درجے کی سطح سے کم ہے۔ مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ، طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے آ رہے ہیں، جسے تہران سختی سے مسترد کرتا ہے۔
اپریل میں عمان کی ثالثی میں دوبارہ شروع ہونے والے امریکہ-ایران مذاکرات کے بعد سے ایران نے واشنگٹن پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے اور اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ امریکی عوامی بیانات اور نجی بات چیت میں تضاد پایا جاتا ہے۔ عراقچی نے اس رویے کو مذاکراتی عمل میں بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔

