نیتن یاہو کا اعلان: "پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کریں گے” — قحط کے خدشے پر امدادی ناکہ بندی جزوی طور پر ختم
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اسرائیل بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پورے غزہ پر قبضہ حاصل کرے گا۔ عالمی دباؤ کے تحت اسرائیل کو غزہ میں امداد کی ناکہ بندی ختم کرنا پڑی جہاں قحط کے آثار شدت اختیار کر چکے ہیں۔
نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا: "غزہ کے تمام حصوں پر ہمارا کنٹرول ہو گا۔” انہوں نے "مکمل فتح” حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا — جس میں حماس کی مکمل تباہی اور باقی 58 یرغمالیوں کی بازیابی شامل ہے۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی شہر خان یونس کے شہریوں کو ساحل کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا اور "ایک بے مثال حملے” کی تیاری کا اعلان کیا۔
اگرچہ حملے کی وارننگ جاری تھی، ریائٹرز کے صحافیوں نے شمالی غزہ کی طرف امدادی ٹرکوں کی نقل و حرکت دیکھی، جو نیتن یاہو کی عالمی دباؤ کے آگے جزوی پسپائی کو ظاہر کرتی ہے۔
نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ امریکا کے دیرینہ اسرائیل حامی سینیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ بھوک اور قحط کی تصاویر اسرائیل کے لیے خطرناک حد تک عالمی حمایت کو متاثر کر رہی ہیں، اور وہ "ریڈ لائن” کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
نیتن یاہو کا اعتراف: "فتح کے لیے مسئلہ حل کرنا ہوگا” — اسرائیلی حملوں میں مزید 20 فلسطینی شہید، 160 اہداف تباہ
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ "فتح حاصل کرنے کے لیے ہمیں کسی نہ کسی طرح اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا” — یہ پیغام بظاہر اپنی حکومت کے سخت گیر دائیں بازو کے وزراء کو دیا گیا ہے جو غزہ کو امداد کی فراہمی کی مخالفت کر رہے ہیں تاکہ یہ حماس تک نہ پہنچ سکے۔
رات گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 20 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں 160 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں اینٹی ٹینک پوزیشنز، زیر زمین تنصیبات اور اسلحہ کے ذخیرے شامل تھے۔
فوج نے بتایا کہ “آپریشن جدعونز چیریٹس” کے تحت کارروائیاں غزہ بھر میں جاری ہیں، جن کا مقصد حماس کی عسکری و حکومتی صلاحیت کو ختم کرنا اور اکتوبر 2023 میں یرغمال بنائے گئے افراد کو بازیاب کرانا ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے امدادی ناکہ بندی میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں محدود مقدار میں خوراک داخل ہونے دی جائے گی۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق پیر کے روز آٹے، خوردنی تیل اور دالوں سے بھرے 50 ٹرک غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ شیرخوار بچوں کے لیے خوراک سے بھرے 9 ٹرک بھی جلد داخل ہوں گے۔
مارچ میں دو ماہ پرانی جنگ بندی ختم ہونے سے قبل اسرائیل نے غزہ پر امدادی ناکہ بندی نافذ کر دی تھی، جس پر بین الاقوامی دباؤ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں 23 لاکھ آبادی والے اس محصور علاقے میں قحط کی وارننگ دے چکی ہیں۔
اسرائیلی خفیہ کارروائی میں فلسطینی کمانڈر ہلاک، 8 دن میں 500 سے زائد شہادتیں
غزہ میں امداد کی تقسیم سے وابستہ ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک ناہد شہیبر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی ٹرکوں کو روکنے یا لوٹنے سے گریز کریں۔
ادھر جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کے وسط میں اسرائیلی خفیہ کارروائی کے دوران فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے ایک کمانڈر کو شہید کر دیا گیا۔ طبی ذرائع کے مطابق احمد سرحان، جو حماس کی اتحادی عسکری تنظیم "پاپولر ریزسٹنس کمیٹیز (PRC)” کے کمانڈر تھے، کو اسرائیلی فورسز نے ایک چھاپہ مار کارروائی میں قتل کر دیا۔ یہ اہلکار بے گھر افراد کے بھیس میں داخل ہوئے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق سرحان نے مزاحمت کی، تاہم انہیں شہید کر دیا گیا۔ اسرائیلی فورسز ان کی بیوی اور بچوں کو گرفتار کرکے طیاروں کی فائرنگ کی آڑ میں ایک بس کے ذریعے مشرقی سرحد کی طرف لے گئیں۔
عینی شاہد محمد سرحان نے کہا:
"جیسے آپ دیکھ سکتے ہیں، انہوں نے دیوار میں سوراخ کیا، گھر میں داخل ہوئے، والد کو شہید کیا، 11 سالہ بچے اور ماں کو لے گئے اور روانہ ہو گئے۔”
فوجی کارروائی میں شدت
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ آٹھ روز کے دوران اسرائیلی حملوں میں 500 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل نے اپنی تازہ فوجی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ کو محدود امداد دینے کا اعلان اُس وقت کیا جب قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
اسرائیلی حکومت کی حکمت عملی پر شدید تنقید، حماس کی موجودگی کو "واضح ناکامی” قرار دیا گیا
اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یواف گیلنٹ، جنہوں نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے اختلافات کے باعث گزشتہ سال حکومت چھوڑ دی تھی، نے کہا ہے کہ حماس کا اب بھی غزہ میں موجود ہونا اسرائیلی فوجی مہم کی "واضح ناکامی” ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے غزہ کے مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔
گیلنٹ کا کہنا تھا کہ اگر حماس کو ہٹانے کا کوئی متبادل منصوبہ ہوتا، تو امداد کے حماس کے ہاتھ لگنے پر کوئی بحث ہی نہ ہوتی، کیونکہ وہ غزہ پر قابض نہ ہوتی۔
ادھر نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی بات چیت میں عارضی سیزفائر، یرغمالیوں کی رہائی، حماس کے رہنماؤں کی جلاوطنی اور غزہ کو غیر مسلح کرنے جیسے نکات زیر غور آئے ہیں — تاہم حماس نے پہلے ہی ایسے شرائط کو مسترد کر رکھا ہے۔
حماس کے سینئر رہنما سمیع ابو زہری نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکرات میں تعطل کا الزام اسرائیل پر لگایا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت میں اضافہ باقی ماندہ یرغمالیوں کے لیے "سزائے موت” کے مترادف ہوگا۔
53 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، اسرائیلی حملوں میں شدت
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی زمینی و فضائی جارحیت سے اب تک 53,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جبکہ تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اُس وقت شروع ہوئی جب حماس کی قیادت میں جنگجوؤں نے غزہ کی سرحد کے قریب اسرائیلی علاقوں پر حملہ کیا، جس میں اسرائیل کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنا لیے گئے تھے

