یمن کی اعلیٰ قیادت نے بین الاقوامی ایئرلائنز کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے بن گورین ایئرپورٹ کے لیے اپنی پروازیں بحال کرنے سے گریز کریں، بصورت دیگر وہ یمنی مسلح افواج کی جانب سے دی گئی واضح وارننگز کو نظرانداز کرنے کی مرتکب ہوں گی۔
الجزیرہ کو خصوصی بیان دیتے ہوئے ایک سینئر یمنی ذریعے نے کہا کہ جو کمپنیاں اسرائیل کے اس ایئرپورٹ کے لیے اپنی پروازیں بحال کرنے کی خواہاں ہیں، انہیں اپنی منزلیں تبدیل کرنی چاہئیں اور یمنی فوج کی جانب سے جاری کردہ انتباہات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
ذرائع نے واضح کیا کہ یمنی فوج اسرائیلی فضاء پر ایک جامع فضائی ناکہ بندی نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے، جو صرف بن گورین ایئرپورٹ تک محدود نہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ یمنی میزائل اور ڈرون حملوں کی سمت اور شدت مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ فضائی خلاف ورزیاں کسی طور "اتفاقیہ” نہیں ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ یمنی عوام اور افواج نفسیاتی جنگ یا کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گی، اور وہ فلسطینیوں کی حمایت میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
بن گورین پر یمنی حملہ
یمنی مسلح افواج کی راکٹ فورس نے اتوار کی صبح اسرائیل کے زیر قبضہ شہر یافا میں واقع لِد ایئرپورٹ (جسے بن گورین ایئرپورٹ کہا جاتا ہے) پر ایک بڑے عسکری حملے کا اعلان کیا۔
یمنی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سَریع کے مطابق اس کارروائی میں دو بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے: ایک ہائپرسانک میزائل جسے "فلسطین 2” کا نام دیا گیا، اور دوسرا "ذوالفقار” میزائل۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے نے اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کیے، جس کے نتیجے میں لاکھوں صہیونی پناہ گاہوں میں چھپنے پر مجبور ہوئے اور ایئرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں تقریباً ایک گھنٹے کے لیے معطل ہو گئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل یمنی ڈرون یونٹ کی جانب سے بھی ایک عسکری کارروائی کی گئی، جس میں "یافا ٹائپ” ڈرون استعمال کیا گیا۔
یحییٰ سریع نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں مظلوم فلسطینی عوام اور مزاحمتی قوتوں کی حمایت میں کی جا رہی ہیں، اور غزہ کی پٹی میں جاری صہیونی نسل کشی کے خلاف یمن کی مزاحمت کا حصہ ہیں۔
اسرائیلی میڈیا: یمن، جنگ بندی پر مجبور کر سکتا ہے
اسرائیلی چینل 12 نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ یمن اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بند کرے اور قیدیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کرے۔ چینل نے لکھا، "یمن کی جانب سے صرف ایک میزائل فی ہفتہ بھی کافی ہے کہ بن گورین ایئرپورٹ کی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے۔”
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایئر انڈیا نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ مؤخر کر دی ہیں، اور اب یہ پروازیں کم از کم 19 جون سے پہلے بحال ہونے کا امکان نہیں۔
چینل 12 نے یمن کو ایک "منفرد اور سنگین چیلنج” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک "پیچیدہ صورتحال” ہے کیونکہ یمن کے پاس سینکڑوں بیلسٹک میزائل موجود ہیں اور اسے شکست دینا ممکن نہیں۔

