ایرانی میڈیا کے مطابق ایران افغانستان کی آہنی کانوں میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔
کابل میں ایران کے قائم مقام سفیر علیرضا بیکدلی نے کہا ہے کہ افغانستان کے معدنی وسائل میں بے پناہ گنجائش موجود ہے، جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری ایران کو عالمی سطح پر اسٹیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کو اپنی کان کنی کی صنعت کے لیے خام مال کی مسلسل ضرورت ہے، ایسے میں یہ سرمایہ کاری ایران کو چھ گنا تک منافع دے سکتی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ایران فی ٹن افغان لوہا 100 ڈالر میں درآمد کرتا ہے اور اسے اسٹیل کی شکل میں 600 ڈالر فی ٹن کے حساب سے برآمد کرتا ہے۔
افغانستان کی وزارتِ معدنیات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، ایران اب تک افغانستان کے کان کنی کے شعبے میں، بشمول آہنی کانوں، 2.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔
یونین آف آئرن اسمیلٹنگ فیکٹریز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبدالنصیر رشتیہ نے کہا ہے: "اگر ملک کی کانوں سے تکنیکی اور پیشہ ورانہ انداز میں معدنیات نکالی جائیں، اور تمام مراحل یعنی پراسیسنگ اور پیداواری عمل ملک کے اندر مکمل کیا جائے، تو اس کے انتہائی مثبت اقتصادی نتائج سامنے آئیں گے۔”
رپورٹس کے مطابق ایران اور افغانستان کے درمیان آہنی معدنیات پر تعاون کا معاہدہ پانچ سالہ ہے، جس سے ایران کو سالانہ 1.2 ارب ڈالر منافع حاصل ہونے کی توقع ہے۔
گزشتہ تین برسوں میں ایران اور افغانستان کے تعلقات میں خاطر خواہ وسعت آئی ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 4 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکا ہے۔
دوسری جانب، ایرانی حکام نے اپنی سرحدی صوبوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ معاشی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے دستیاب تمام وسائل کا بھرپور استعمال کریں، خاص طور پر افغانستان کے سرحدی صوبوں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے۔

