پاکستان اور افغانستان نے خرلاچی بارڈر ٹرمینل پر قائم "پاک-افغان فرینڈشپ اسپتال” کا مشترکہ افتتاح کیا، جو جدید طبی سہولیات، لیبارٹری، فارمیسی، قلبی معائنہ، شوگر اور بلڈ پریشر کی اسکریننگ یونٹ سے آراستہ ہے۔
اس اسپتال کا افتتاح افغان حکومت اور پاک فوج کی مشترکہ کاوشوں سے عمل میں آیا۔ پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق کے مطابق، یہ اسپتال سرحدی علاقوں کے رہائشیوں اور علاج کے خواہاں افغان شہریوں کے لیے ایک اہم طبی مرکز کے طور پر خدمات انجام دے گا۔
افتتاحی تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام، انتظامی نمائندے اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ محمد صادق نے کہا کہ اس اسپتال کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا اور انسانی خدمت کے جذبے کو مستحکم کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی کمیونٹیز نے اس اقدام کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ایسے منصوبے دیرپا امن، باہمی تعاون اور علاقائی فلاح و بہبود کی راہ ہموار کریں گے۔
یہ افتتاح ایسے وقت میں عمل میں آیا جب چند روز قبل ہی اس سرحدی گزرگاہ کو چھ ماہ کی بندش کے بعد دوبارہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولا گیا ہے۔
خرلاچی سرحد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے بارڈر انچارج میجر معیذ اور افغانستان کے سرحدی امور کے نمائندے مولانا جاوید نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی نقل و حرکت باقاعدہ طور پر بحال ہو چکی ہے۔
میجر معیذ نے بارڈر کھلنے کو دونوں حکومتوں، سیکیورٹی اداروں اور قبائلی عمائدین کے درمیان ہم آہنگ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: "یہ قدم دونوں ممالک کے بہترین مفاد میں ہے اور خطے میں معاشی استحکام کو فروغ دے گا۔”
مولانا جاوید نے بھی بہتر تعلقات کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا: "افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔”

