کوئٹہ: اتوار کی شام دیر گئے افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ کے گاؤ ں گلستان میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قلعے کے قریب واقع ایک کمرشل مارکیٹ میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 20 دیگر زخمی ہوگئے، جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک ہے۔
حکام کے مطابق یہ زور دار دھماکہ گلستان ٹاؤن میں واقع جبار کمرشل مارکیٹ میں ہوا، جو کوئٹہ-چمن نیشنل ہائی وے پر واقع ہے۔ دھماکے سے علاقے میں موجود متعدد دکانیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں، جبکہ ایف سی قلعے کی پچھلی دیوار کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد دکانوں میں آگ بھڑک اٹھی۔دھماکے کے بعد ایف سی اہلکاروں اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو کچھ دیر تک جاری رہا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کا ہدف حکومت کے حامی قبائلی رہنما فیض اللہ غبیزئی تھے، جو دھماکے کے وقت مارکیٹ میں موجود تھے۔ تاہم، غبیزئی محفوظ رہے جبکہ ان کے محافظ دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
ضلعی انتظامیہ نے 4 افراد کی ہلاکت اور 20 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ محمد ریاض خان داوڑ کے مطابق، "دھماکے میں 4 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوئے،” انہوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کے لیے ایک آئی ای ڈی سے لیس گاڑی استعمال کی گئی، جو غالباً ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑائی گئی۔
داوڑ نے کہا: "بظاہر حملہ آوروں کا ہدف کمرشل مارکیٹ کے ساتھ واقع ایف سی قلعے کی پچھلی دیوار تھی۔” دھماکے کے بعد ایف سی کے اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر زخمیوں کو ضلع اسپتال قلعہ عبداللہ اور گلستان میں داخل کیا گیا۔
جاں بحق افراد کی لاشوں کو بھی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جن کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ لیویز واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ دھماکے کے بعد قلعہ عبداللہ اور چمن میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے ایف سی قلعے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

