پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیآئی ایم ایف کا توقع: پاکستان کی نجکاری سے آمدنی 2030 تک...

آئی ایم ایف کا توقع: پاکستان کی نجکاری سے آمدنی 2030 تک متوقع نہیں
آ

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی نجکاری سے آمدنی 2030 تک متوقع نہیں

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان کی نجکاری منصوبوں سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کو 2030 تک نجکاری سے کوئی خاطر خواہ مالی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ IMF کے مطابق پاکستان کے نجکاری منصوبے مختلف وجوہات کی بنا پر مؤثر طریقے سے مکمل نہیں ہو رہے اور اس کا اثر ملکی مالیاتی صورتحال پر پڑ رہا ہے۔

اہم نکات:

  • IMF نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کا بیرونی مالیاتی خسارہ مالی سال 2027-28 میں 31.4 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا، جو جاری قرضوں کے پروگراموں کے مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
  • پاکستان کے نجکاری منصوبوں سے 2030 تک کوئی آمدنی متوقع نہیں ہے، جیسا کہ IMF کی رپورٹ میں صفر کی مقدار ظاہر کی گئی ہے۔
  • 2025-26 کے بجٹ کے لیے بیرونی مالیاتی خسارہ 19.75 ارب ڈالر، اور 2026-27 میں تقریباً 19.35 ارب ڈالر کا تخمینہ ہے، لیکن یہ خسارہ اگلے برسوں میں تیزی سے بڑھ کر 2027-28 میں 31.35 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
  • IMF نے کہا ہے کہ حکومت کو 2027-28 تک اس بڑے مالیاتی خسارے کو بغیر نئے IMF قرض کے مینج کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، کیونکہ حکومت نے موجودہ قرض پروگرام کو آخری قرض قرار دیا ہے۔

دیگر مالی تخمینے:

  • پاکستان کے مجموعی غیر ملکی ذخائر 2027-28 میں تقریباً 23 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جو مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔
  • برآمدات کی پیش گوئی ہے کہ وہ 2025-26 میں 32.9 ارب ڈالر، 2026-27 میں 35.9 ارب ڈالر، اور 2027-28 میں 38.59 ارب ڈالر تک پہنچیں گی۔
  • درآمدات کی پیش گوئی ہے کہ وہ 2025-26 میں 59.9 ارب ڈالر، 2026-27 میں 63.1 ارب ڈالر، اور 2027-28 میں 67.13 ارب ڈالر ہوں گی۔
  • موجودہ کھاتے کا خسارہ 2027-28 تک 1.48 ارب ڈالر سے 3.85 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
  • بیرون ملک مقیم پاکستانی مزدوروں کی ترسیلات زر تقریباً 36 ارب ڈالر کے لگاتار رہنے کی توقع ہے۔

IMF کی شرائط اور سفارشات:

  • پاکستان نے RSF کے تحت 13 شرائط پر عمل کرنے کی منظوری دی ہے، جن میں بجٹ میں بجلی کے سبسڈی نظام میں تبدیلی، بجلی کی قیمتوں میں شفافیت، اور نئے توانائی کے پالیسی اقدامات شامل ہیں۔
  • بجلی کے استعمال میں زیادہ منصفانہ سبسڈی نظام اور توانائی کی بچت کو فروغ دینے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
  • مختلف بجلی کے آلات کے معیار اور توانائی کی بچت کے لئے قواعد و ضوابط نافذ کیے جائیں گے۔
  • موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں سرکاری سرمایہ کاری کے منصوبوں میں کلائمٹ ایڈاپٹیشن اور مٹیگیشن کی اہمیت بڑھائی جائے گی۔
  • قومی آفات کے مالیاتی انتظام کے لیے مناسب فریم ورک اپنانے پر اتفاق ہوا ہے۔
  • بینکنگ سیکٹر میں کلائمٹ رسک مینجمنٹ کے اصول نافذ کیے جائیں گے۔
  • گیسولین اور ڈیزل پر اضافی کاربن ٹیکس لگایا جائے گا تاکہ ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔
  • زرعی آبپاشی کے نظام کی اصلاح کے لیے ای-ابیانہ نظام کو پنجاب میں نافذ کر کے دیگر صوبوں میں بھی پھیلایا جائے گا، جس سے اربوں روپے کی آمدنی کا امکان ہے۔

چیلنجز اور توقعات:

  • ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ موجودہ پروگرام پاکستان کی معیشت میں کوئی بڑا تبدیلی نہیں لائے گا اور 2027-28 تک GDP کی شرح نمو صرف 4.5 فیصد تک محدود رہے گی۔
  • زیادہ ٹیکسز اور اخراجات میں کمی کے باوجود معیشت میں بہتری کی رفتار سست رہے گی اور غربت میں کمی کا امکان کم ہوگا۔
  • حکومت کو IMF کی گرفت سے آزاد ہونے کے لیے غیر قرضی ذرائع سے ڈالر کی آمد بڑھانے کے لیے بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔

خلاصہ:

IMF کی رپورٹ پاکستان کی معیشت کو بڑے بیرونی مالیاتی خسارے، محدود نجکاری آمدنی، اور وسیع اصلاحات کی ضرورت کے حوالے سے خبردار کرتی ہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ ہے کہ وہ مالی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے معیشت کو بہتر کرے اور قرضوں کے بوجھ سے نجات حاصل کرے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین