پاکستان اور چین کے درمیان جینیاتی تحقیق میں تاریخی تعاون کا آغاز
اسلام آباد، 18 مئی (اے پی پی):
پاکستان میں جینیاتی تحقیق اور تشخیص کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت کے تحت وزارت قومی صحت نے چین کے معروف ادارے BGI گروپ کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کے لیے ایک روڈ میپ جاری کیا ہے۔
یہ پیشرفت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ہوئی، جس کی صدارت وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کی، جبکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی شریک ہوئے۔
🔬 مرکزی نکات:
- اجلاس میں BGI کے ساتھ تعاون کے ممکنہ شعبوں پر غور کیا گیا، جن میں:
- جینیاتی ٹیسٹنگ
- نایاب بیماریوں کی تحقیق
- جدید تشخیصی سہولیات شامل ہیں۔
- اجلاس کی خاص بات قومی جین بینک (National Gene Bank) کے قیام کی تجویز تھی، جس کا مقصد آنے والی نسلوں کے لیے جینیاتی ڈیٹا کا تحفظ ہے۔
- ڈاکٹر بھرتھ نے کہا: "پاکستان اور چین کے درمیان سائنسی تعاون بیماریوں کی بروقت تشخیص اور روک تھام کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔”
🧪 مزید اقدامات:
- NIH کو بین الاقوامی تعاون کا فریم ورک تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
- NIH کے 2 سے 3 ماہرین پر مشتمل تکنیکی ٹیم تشکیل دی جائے گی جو پاکستان کی جینیاتی صحت سے متعلق ترجیحات پر سفارشات مرتب کرے گی۔
- یہ ٹیم BGI کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تفصیلی تجاویز دے گی۔
🌏 چینی ریسرچ سینٹرز کا دورہ:
- پاکستانی وفد عنقریب چین میں BGI کے جدید تحقیقاتی مراکز کا دورہ کرے گا۔
- یہ دورہ تھلیسیمیا، تولیدی صحت، کینسر، اور نایاب بیماریوں پر چینی تحقیق کا مشاہدہ کرے گا۔
- BGI نے وفد کو باضابطہ دعوت دے دی ہے۔
🤝 آئندہ معاہدہ:
- اس تعاون کا اختتام پاکستانی حکومت اور BGI گروپ کے درمیان یادداشتِ تفاہم (MoU) پر دستخط کی صورت میں ہوگا۔
- ڈاکٹر بھرتھ نے کہا: "یہ اقدام پاکستان کے حیاتیاتی تحقیقاتی نظام میں انقلابی تبدیلی کی بنیاد رکھے گا۔”
یہ پیش رفت پاکستان کی سائنسی سفارت کاری میں ایک اہم قدم ہے اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے عوامی صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

