پیر, فروری 16, 2026
ہومپاکستانپاکستان کی برآمدات کو پانچ سال میں 60 ارب ڈالر تک بڑھانے...

پاکستان کی برآمدات کو پانچ سال میں 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف: حکومت کی حکمت عملی
پ

اسلام آباد، 18 مئی (اے پی پی):
وفاقی وزیر تجارت، جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت ملکی برآمدات کو اگلے پانچ سالوں میں 60 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے جامع اقتصادی پالیسیوں پر عمل درآمد کر رہی ہے، جن میں ٹیرف کی اصلاحات (Tariff Rationalization) مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے اے پی پی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ:

"ٹیرف اصلاحات اقتصادی حکمرانی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اور حکومت نے قلیل، وسط، اور طویل مدتی معاشی و تجارتی پالیسیوں کے ذریعے ملک کی برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔”

کلیدی نکات:

  • وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر جامع ٹیرف پالیسی تشکیل دی گئی ہے، جس کا مقصد تجارتی آزادی کو فروغ دینا، مقامی تجارت کا حجم بڑھانا، اور پاکستان کو نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دلانا ہے۔
  • برآمدی اشیاء میں تنوع (Trade Diversification):
    حکومت مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں (FTAs) پر کام کر رہی ہے تاکہ نئی اشیاء کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرایا جا سکے اور پاکستان کا تجارتی دائرہ وسیع ہو۔
  • پاکستان نے چین، ملیشیا، اور سری لنکا کے ساتھ ایف ٹی ایز کو حتمی شکل دے دی ہے، جب کہ ترکی، تھائی لینڈ، اور ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
  • وسطی ایشیائی ممالک (ازبکستان، آذربائیجان، انڈونیشیا) کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTAs) کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔
  • حکومت نے امریکہ اور جنوبی امریکہ جیسے غیر روایتی بازاروں میں پاکستانی مصنوعات کو فروغ دینے پر بھی توجہ مرکوز کی ہے۔
  • انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی و علاقائی سطح پر آزاد تجارت کی حمایت کرتا ہے اور اس حوالے سے پالیسیاں بھی ترتیب دی جا رہی ہیں۔

ٹیرف پالیسی کے اثرات:

  • پاکستان میں ٹیرفز کو ماضی میں آمدنی کے بنیادی ذرائع کے طور پر استعمال کیا گیا، جس سے برآمدات اور صنعتی کارکردگی متاثر ہوئی۔
  • جام کمال کے مطابق، ٹیرف اصلاحات ملک کی برآمدی مسابقت، صنعتی کارکردگی، اور عالمی تجارتی نظام سے انضمام کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
  • ویلیو ایڈڈ اور تیار شدہ مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کی تجاویز شامل ہیں تاکہ برآمدات پر مبنی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
  • حکومت نے 15 برآمدی شعبوں کی ڈیٹا بیس پر مبنی تشخیصی تحقیق کی ہے اور حقائق کی بنیاد پر ٹیرف کم یا بڑھانے کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

علاقائی تجارت پر زور:

  • حکومت کی مرکزی توجہ علاقائی تجارت پر ہے، خاص طور پر پانچ وسطی ایشیائی ریاستوں—ازبکستان، قازقستان، تاجکستان، ترکمانستان، اور کرغیزستان—کو مستقبل کے اہم تجارتی شراکت دار قرار دیا گیا ہے۔

نتیجہ:

جام کمال خان کے مطابق، ٹیرف ریفارمز نہ صرف پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں گی بلکہ ملک کو عالمی سپلائی ویلیو چین (GVC) سے جوڑنے میں بھی مدد فراہم کریں گی، جو پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ایک بنیادی قدم ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین