بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے امریکہ کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ایک درجہ کم کر دی ہے، جو اب Aaa سے کم ہو کر Aa1 ہو گئی ہے۔ ادارے نے اس فیصلے کی وجہ امریکی حکومت کے بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کی فنانسنگ کے بوجھ اور بلند شرح سود کے باعث پرانے قرضوں کی تجدید کی بڑھتی ہوئی لاگت کو قرار دیا ہے۔
موڈیز کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے: "یہ ایک درجہ کمی، ہماری 21 درجہ جاتی اسکیل میں، گزشتہ دہائی سے زائد عرصے میں سرکاری قرضوں اور سود کی ادائیگی کے تناسب میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتی ہے، جو دیگر ہم پلہ ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہو چکا ہے۔”
ریٹنگ میں کمی کے نتیجے میں امکان ہے کہ امریکی حکومتی بانڈز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے بلند منافع کا مطالبہ کیا جائے گا، کیونکہ اس سے سرمایہ کاری میں خطرے کا تاثر ابھرے گا۔ اس اقدام سے امریکی اثاثوں، بشمول اسٹاکس، کی قدر و قیمت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم، بڑی ریٹنگ ایجنسیز اب بھی امریکہ کو اپنا دوسرا بلند ترین درجہ دے رہی ہیں۔
اس فیصلے کے بعد 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ پر منافع کی شرح 3 بیسس پوائنٹس بڑھ کر 4.48 فیصد ہو گئی، جبکہ طویل مدتی قرض کے لیے معروف ETF، iShares 20+ Year Treasury Bond ETF، کی قیمت میں آفٹر آورز میں تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسی دوران S&P 500 ETF Trust، جو امریکی اسٹاک مارکیٹ کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، 0.4 فیصد گر گیا۔
قابل ذکر ہے کہ موڈیز وہ آخری بڑی ریٹنگ ایجنسی تھی جس نے امریکہ کو سب سے اعلیٰ درجہ (Aaa) دے رکھا تھا۔ اس اقدام کے بعد موڈیز بھی اپنے حریفوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی ہے۔ یاد رہے، اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے اگست 2011 میں اور فچ ریٹنگز نے اگست 2023 میں امریکہ کی ریٹنگ کو AAA سے کم کر کے AA+ کر دیا تھا۔
موڈیز کے تجزیہ کاروں نے کہا: "مسلسل امریکی حکومتیں اور کانگریس مالیاتی خسارے اور بڑھتے ہوئے سودی اخراجات کے رجحان کو پلٹنے کے لیے مؤثر اقدامات پر متفق نہیں ہو سکیں۔”
انھوں نے مزید کہا: "ہمیں موجودہ مالی تجاویز سے آئندہ کئی سالوں میں لازمی اخراجات اور بجٹ خسارے میں کسی بڑی کمی کی توقع نہیں۔”
امریکہ اس وقت ایک بڑے بجٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ بلند شرح سود اور قرض کی اصل رقم میں مسلسل اضافہ ہے۔ یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے مالی سال میں اب تک خسارہ 1.05 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔ البتہ درآمدی اشیا پر محصولات سے گزشتہ ماہ خسارے میں کچھ کمی آئی۔
موڈیز نے اپنے بیان میں واضح کیا: "اگر 2017 کے ٹیکس کٹ اینڈ جابز ایکٹ کو توسیع دی گئی، جو ہمارا بنیادی اندازہ ہے، تو یہ آئندہ دہائی میں بنیادی (یعنی بغیر سود کے) خسارے میں تقریباً 4 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرے گا۔”
ایجنسی نے پیش گوئی کی کہ: "2024 میں خسارہ جو جی ڈی پی کا 6.4 فیصد ہے، وہ 2035 تک بڑھ کر 9 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ اس اضافے کی وجہ سود کی بڑھتی ہوئی ادائیگیاں، بڑھتے ہوئے سوشل سیکیورٹی اخراجات، اور محدود حکومتی آمدنی ہو گی۔”
موڈیز کے مطابق 2024 میں امریکہ کا قرضہ جی ڈی پی کا 98 فیصد ہے، جو 2035 تک بڑھ کر 134 فیصد تک جا پہنچے گا۔
اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد، ایوانِ نمائندگان کی بجٹ کمیٹی — جس پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے — نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتصادی پالیسی کے تحت 2017 کے ٹیکس میں دی گئی چھوٹ کی توسیع پر مشتمل ایک بڑا ٹیکس پیکیج مسترد کر دیا۔
بلیکلی فنانشل گروپ کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر پیٹر بوکوار کا کہنا تھا: "ٹریژری بانڈز پہلے ہی غیر ملکی طلب میں کمی اور مسلسل بڑھتے ہوئے قرض کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں۔ موڈیز کا یہ اقدام محض علامتی نہیں بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی مالیاتی حالت واقعی دباؤ میں ہے۔”
واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے درآمدی اشیاء پر بھاری محصولات عائد کیے، تو اس کے ردعمل میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈ میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی قدر میں کمی آئی تھی، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ عالمی سرمایہ کار امریکہ کو محفوظ ترین سرمایہ کاری کی جگہ کے طور پر دیکھنے پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں۔
ہائی ٹیک اسٹریٹیجسٹ کے ایڈیٹر فریڈ ہیکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر کہا: "یہ موڈیز کی جانب سے ایک جمعے کی شام بمشکل بند ہونے والی منڈی کے بعد پھینکا گیا بم ہے۔” ان کے مطابق، بانڈز اور ڈالر کی قدر میں مزید کمی اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
یہ امر دلچسپ ہے کہ اگرچہ موڈیز نے امریکی بانڈز کو باضابطہ طور پر پہلی بار 1993 میں ریٹ کیا تھا، لیکن 1949 سے ہی امریکہ کو Aaa کی درجہ بندی بطور "ملکی چھت” (country ceiling) حاصل تھی۔

