پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیپیوٹن، زیلنسکی ملاقات ممکن ہے، کریملن

پیوٹن، زیلنسکی ملاقات ممکن ہے، کریملن
پ

امن مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان براہِ راست بات چیت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، روسی ترجمان

ماسکو – کریملن نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ملاقات ممکن ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان جاری مذاکرات میں قابلِ ذکر پیش رفت اور قابلِ عمل معاہدے طے پائیں۔

یہ بیان ہفتے کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس وقت دیا جب استنبول میں ترکی کی ثالثی میں ماسکو اور کیف کے وفود کے درمیان دو سال بعد براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوا۔ مذاکرات کے بعد روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی نے بتایا کہ فریقین نے جنگ بندی سے متعلق تجاویز کے تبادلے اور آئندہ ملاقات کے امکانات پر بات چیت کی ہے، جب کہ ایک بڑے قیدیوں کے تبادلے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

پیسکوف کا کہنا تھا، "صدر پیوٹن اور صدر زیلنسکی کے درمیان ملاقات اُسی صورت میں ممکن ہے جب دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر تفصیلی کام کے نتیجے میں ٹھوس معاہدے سامنے آئیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ ماسکو کے لیے ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ یوکرینی فریق کی جانب سے ممکنہ معاہدوں پر دستخط کے لیے کس کو مجاز سمجھا جائے گا، کیونکہ صدر زیلنسکی کی آئینی مدت گزشتہ برس مکمل ہو چکی ہے، اور انہوں نے مارشل لا کے نفاذ کے سبب نئے انتخابات کرانے سے انکار کیا ہے۔ روس زیلنسکی کو "غیرقانونی صدر” قرار دیتا ہے اور مؤقف اپناتا ہے کہ اب ملک میں قانونی اختیار یوکرینی پارلیمان کے پاس ہے۔

روسی ترجمان نے مذاکرات کی تفصیلات سے متعلق میڈیا رپورٹس پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا، "ایسے عمل کو مکمل رازداری میں آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ اس کی افادیت متاثر نہ ہو۔”

یاد رہے کہ بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ روس نے یوکرین کے سامنے نیوٹرل حیثیت اختیار کرنے، غیر ملکی افواج اور جوہری ہتھیاروں کی اپنی سرزمین پر موجودگی پر پابندی عائد کرنے، اور متنازعہ علاقوں سے دستبرداری جیسے مطالبات رکھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ماسکو چاہتا ہے کہ کیف جنگ بندی سے قبل ان علاقوں سے مکمل انخلا کرے۔

پیسکوف نے واضح کیا کہ استنبول مذاکرات کے نتائج پر روس کی جانب سے امریکہ سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، اور نہ ہی روسی وفد کی ساخت میں تبدیلی زیرِ غور ہے۔ تاہم، انہوں نے تصدیق کی کہ فریقین نے جنگ بندی کی شرائط کا تبادلہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب، یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں کی جانب سے روس کے ساتھ مذاکرات سے قبل 30 روزہ مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جسے ماسکو نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی بھی عارضی مہلت کا فائدہ صرف کیف کو ہوگا تاکہ وہ اپنی کمزور افواج کو ازسرِ نو منظم کر سکے۔

ذرائع کے مطابق صدر زیلنسکی نے ابتدا میں براہِ راست مذاکرات کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس پر رضامندی ظاہر کی، جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ "یوکرین کو فوری طور پر ان مذاکرات کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین