شام کی عبوری حکومت نے عبوری انصاف کے لیے قومی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جب کہ باقی ماندہ مسلح گروہوں کو 10 دن کے اندر وزارت دفاع میں ضم ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
عبوری صدر احمد الشراء کے دستخط شدہ حکم نامے کے مطابق یہ نیا کمیشن سابق حکومت کے دور میں ہونے والی "سنگین خلاف ورزیوں” کی تحقیقات، متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر احتساب کو یقینی بنانے، متاثرین کو معاوضے فراہم کرنے، ایسے واقعات کے اعادے کی روک تھام اور قومی مفاہمت کو فروغ دینے کی ذمہ داری سنبھالے گا۔
خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور متاثرین کی مدد کے لیے کمیشن فعال
حکم نامے میں عبدالباسط عبد اللطیف کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جنہیں 30 دن کے اندر کمیشن کے قواعد و ضوابط کا مسودہ تیار کرنے اور اپنی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ کمیشن کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی، اور وہ مالی و انتظامی طور پر خودمختار ہوگا، نیز پورے شامی علاقے میں اپنے مینڈیٹ کے تحت کام کرے گا۔
یہ اقدام سابق حکومت کے ماتحت ڈھانچوں کے خاتمے اور نئے نظام کے تحت قانونی و ادارہ جاتی فریم ورک کی تشکیل کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
وزارتِ دفاع کا مسلح گروہوں کو انضمام کے لیے 10 روزہ الٹی میٹم
عدالتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ فوجی ڈھانچے کی ازسرِ نو ترتیب کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ وزیر دفاع مرھف ابو قصرا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری فوجی یونٹس کو وزارت دفاع کے تحت ضم کر دیا گیا ہے، تاکہ کمانڈ کو مرکزی بنایا جا سکے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
ابو قصرا نے وزارتِ دفاع کے دائرہ اختیار سے باہر موجود تمام "چھوٹے گروپوں” کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اعلان کی تاریخ سے 10 دن کے اندر اندر وزارت میں انضمام مکمل کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف موجودہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اگرچہ وزیر نے ان گروہوں کے نام نہیں لیے جنہوں نے ابھی تک انضمام نہیں کیا، لیکن ان کے بیانات سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عبوری حکومت مسلح وفاداریوں کی تقسیم کو ختم کر کے مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
بکھری وفاداریاں اور علاقائی چیلنجز؛ استحکام کی راہ میں رکاوٹ
واضح رہے کہ عبوری حکام نے 8 دسمبر کو سابق حکومت کے خاتمے کے تقریباً دو ماہ بعد سیکیورٹی اور فوجی اداروں کو باقاعدہ تحلیل کر دیا تھا، جب کہ حیات تحریر الشام سمیت تمام مسلح گروہوں کو بھی ختم کیا جا چکا ہے۔
تاہم ان کوششوں کے باوجود حکومت کو ملک بھر میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ کچھ علاقوں میں مسلح مزاحمت، غیر مستحکم اتحاد اور عوامی حمایت کی کمی جیسے مسائل بدستور موجود ہیں، جو کہ قومی یکجہتی کے قیام میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

