پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامییوروویژن پر احتجاجی آوازیں دبانے کا انکشاف

یوروویژن پر احتجاجی آوازیں دبانے کا انکشاف
ی

دی انٹرسیپٹ کی ایک تازہ آڈیو تجزیاتی رپورٹ نے یوروویژن مقابلے میں آزادیٔ فلسطین کے نعروں اور احتجاجی ردعمل کو جان بوجھ کر نشر نہ کرنے کے انکشافات کیے ہیں، جس سے سنسرشپ اور دہرا معیار اختیار کیے جانے کے خدشات نے جنم لیا ہے۔

تحقیق کے مطابق 9 مئی 2024 کو اسرائیلی گلوکارہ ایڈن گولان کی پرفارمنس کے دوران جب یوروویژن کے سیمی فائنل میں ہزاروں افراد نے اسرائیل کے غزہ پر جاری حملوں کے خلاف آواز بلند کی، تو "فری فلسطین” کے نعرے اور زوردار بوئنگ کی آوازیں اسٹیڈیم میں واضح طور پر سنی گئیں۔ تاہم، ٹی وی پر نشر ہونے والے براہِ راست پروگرام میں صرف تالیاں اور خوشی کے نعرے سنائی دیے۔

دی انٹرسیپٹ نے یوروویژن کے آڈیو فیڈز کا تجزیہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ الگ آڈیو چینلز میں بوئنگ کی آوازیں صاف سنائی دیتی ہیں، لیکن آفیشل اسٹیریو براڈکاسٹ میں تماشائیوں کی آواز مکمل طور پر غائب ہے۔ ایک موقع پر جب ایک شخص نے بلند آواز میں "فری فلسطین” کا نعرہ لگایا، تو یہ بھی نشر شدہ ورژن سے خارج کر دیا گیا۔

ای بی یو کا انکار، مگر شواہد واضح

یورپی براڈکاسٹنگ یونین (EBU) نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “تمام بڑے شوز کی طرح، یوروویژن کی نشریات میں آواز کو متوازن کیا جاتا ہے تاکہ ناظرین کے لیے معیار یکساں رہے”۔ ای بی یو نے دعویٰ کیا کہ “آواز کی کوئی سنسرشپ نہیں کی گئی، اور شو میں موجود تماشائیوں کی آواز کو نہیں دبایا گیا”۔

تاہم، دی انٹرسیپٹ کا کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ جہاں تالیاں اور خوشی کی آوازیں جوں کی توں رکھی گئیں، وہیں بوئنگ اور سیاسی نعروں کو منظم طریقے سے ہٹا دیا گیا۔ اس سے یوروویژن کی غیر جانب داری اور آزادیٔ اظہار سے وابستگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دنیا بھر میں اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے، اور ثقافتی پلیٹ فارمز پر بھی عوام اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ یوروویژن جیسے عالمی پلیٹ فارم پر اس ردعمل کو سنسر کرنا آزادیٔ اظہار کے اصولوں کے منافی سمجھا جا رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین