نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ عسکری کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا نے جھوٹی اور سنسنی خیز خبریں نشر کر کے حالات کو مزید بھڑکایا۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی مین اسٹریم میڈیا نے جعلی فضائی حملوں، پاکستانی طیاروں کی تباہی، اور کراچی بندرگاہ پر حملے جیسے بے بنیاد دعوے نشر کیے، جنہیں بعد میں جھوٹا ثابت کیا گیا۔
اخبار کے مطابق معروف بھارتی نیوز چینلز نے نقشوں اور جارحانہ تجزیوں کے ساتھ ایسی رپورٹس پیش کیں جن میں کہا گیا تھا کہ “پاکستان کا ایٹمی اڈہ تباہ کر دیا گیا”، “دو پاکستانی لڑاکا طیارے مار گرائے گئے”، اور “کراچی کی اسٹریٹجک بندرگاہ پر حملہ کیا گیا”۔ نیویارک ٹائمز نے واضح کیا کہ “ان میں سے کوئی بھی دعویٰ درست نہیں تھا”۔
سوشل میڈیا پر جھوٹ کی یلغار
یہ من گھڑت خبریں صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ بڑے نیوز چینلز کی اس رپورٹنگ نے حق و باطل کی حدیں دھندلا دیں۔ رپورٹ میں تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ بھارت کے معتبر ادارے، جو کبھی آزاد صحافت کے لیے جانے جاتے تھے، اب قوم پرستانہ جذبات کی رو میں ادارتی ذمہ داری کو ترک کر چکے ہیں۔ اینکرز کو “دو جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کے لیے جوشیلے ترجمان” قرار دیا گیا۔
ایک جعلی خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کے ایٹمی مرکز پر حملے سے تابکاری پھیل گئی، جبکہ کراچی پر بحری حملے کی خبر کو ایسی ویڈیوز کے ذریعے تقویت دی گئی جو دراصل غزہ کی تھیں۔ باوجود اس کے کہ یہ تمام خبریں جھوٹی ثابت ہو چکی تھیں، وہ وائرل ہو گئیں اور سوشل میڈیا پر “کراچی” اور “کراچی پورٹ” جیسے الفاظ ٹرینڈ کرنے لگے۔
کارنیگی میلن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیئل سلورمین نے اخبار کو بتایا کہ ایسی اطلاعات “لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے اور توجہ حاصل کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں، اکثر اوقات سچ کو چھپانے کے لیے بھی”۔
اعتراف اور معذرت
انڈیا ٹوڈے کے معروف اینکر راج دیپ سردیسائی ان چند صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی ادارتی غلطیوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کے چینل نے بغیر تصدیق کے پاکستانی لڑاکا طیارے مار گرانے کی خبر نشر کی۔ یوٹیوب وی لاگ پر سردیسائی نے کہا کہ یہ اطلاعات “اس وقت تک ثابت نہیں ہوئی تھیں”۔ انہوں نے اس عمل کو “قوم پرستی کے نام پر دائیں بازو کی بدنیتی پر مبنی مہم” قرار دیا۔
مودی حکومت کے دور میں آزادی صحافت کا زوال
نیویارک ٹائمز نے رپورٹ میں لکھا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت میں آزادی اظہار رائے کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2014 کے بعد بھارتی میڈیا پر حکومت کے بیانیے کو فروغ دینے کا رجحان بڑھ گیا ہے، اور اختلافی آوازیں یا تو دبائی جا رہی ہیں یا شدید دباؤ میں ہیں۔
فیکٹ چیکنگ کی قیمت
ان حالات میں چند آزاد ادارے، جیسے کہ آلٹ نیوز، غلط خبروں کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ اس ادارے کے بانی پرتیک سنہا کا کہنا ہے کہ “اطلاعاتی نظام ٹوٹ چکا ہے”۔ ان کی ٹیم نے بھارت کے بڑے نیوز چینلز جیسے آج تک اور نیوز 18 کی گمراہ کن رپورٹس کا جائزہ لیا ہے۔
تاہم سچ کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ پرتیک سنہا نے بتایا کہ ان کے ادارے کو ہتک عزت کے مقدمات اور ہراسانی کا سامنا ہے، جبکہ وسائل بھی محدود ہیں۔
بھارت میں دو سو ملین سے زائد گھرانے ٹی وی رکھتے ہیں اور ساڑھے چار سو سے زیادہ نجی نیوز چینلز موجود ہیں۔ ان حالات میں جھوٹی خبریں جب تصدیق کے بغیر پھیلتی ہیں تو ان کا اثر نہایت وسیع اور خطرناک ہوتا ہے، خاص طور پر دو جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی جیسے نازک مواقع پر۔

