یمن کے دارالحکومت صنعاء میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد صنعاء بین الاقوامی ایئرپورٹ پر 575 مسافر پہنچے اور روانہ ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یمن نے تیزی سے بحالی کا عمل مکمل کیا ہے۔
یہ ایئرپورٹ محض 11 دن بعد دوبارہ کھولا گیا ہے، جب "اسرائیل” نے شمالی صنعاء میں ایئرپورٹ اور اس سے منسلک اہم شہری انفرا اسٹرکچر پر شدید فضائی حملے کیے تھے، جن کا مقصد فضائی آمد و رفت کو معطل کرنا اور اہم سہولیات کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم، یمنی حکام نے فوری اقدامات کے ذریعے ایئرپورٹ کی بحالی کو یقینی بنایا، جو اسرائیلی جارحیت کے خلاف یمنی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یمنی میزائل حملہ: بن گوریون ایئرپورٹ نشانہ
گزشتہ ہفتے کے اوائل میں، یمنی مسلح افواج (YAF) نے مقبوضہ فلسطین میں واقع بن گوریون ایئرپورٹ پر ہائپر سونک بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔ YAF کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق، یہ کارروائی کامیاب رہی، جس کے نتیجے میں لاکھوں اسرائیلی آبادکاروں کو پناہ گاہوں میں جانا پڑا اور ایئرپورٹ کی سرگرمیاں تقریباً ایک گھنٹے تک معطل رہیں۔
یمنی حکام نے بن گوریون ایئرپورٹ پر میزائل حملے کو غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور جاری نسل کشی کا براہِ راست جواب قرار دیا ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر قتلِ عام، قحط اور سخت محاصرہ نے انسانی بحران کو شدید تر کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: "ہم تمہارے ساتھ ہیں”، یمن کے ملین مارچ کا پیغام غزہ کے لیے
غزہ کی حمایت ایک اخلاقی و دینی فریضہ ہے: یمنی افواج
یمنی مسلح افواج (YAF) کے ترجمان جنرل یحییٰ سریع نے زور دیا کہ یہ کارروائی نہ صرف عسکری ردعمل ہے بلکہ تمام آزاد امت مسلمہ کی طرف سے ایک وسیع تر عزم کا اظہار ہے، جو غزہ میں اسرائیلی جرائم کے خلاف کھڑے ہونے کو اپنا دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ سمجھتی ہے۔ انہوں نے عرب و اسلامی حکومتوں کی خاموشی اور غداری پر شدید تنقید کی۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارونوت کے مطابق، اس میزائل حملے کے بعد مقبوضہ علاقوں میں سائرن بجنے لگے، جس سے بیت شِمِش اور مقبوضہ القدس سمیت مختلف مقامات پر افرا تفری پھیل گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ "میزائل نے لاکھوں افراد کو پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور کر دیا”، جو یمنی ردعمل کی سنجیدگی اور مؤثر اثر کا مظہر ہے۔
امریکی روک تھام ناکام، یمن کی غزہ کے لیے حمایت میں شدت
4 مئی کا یمنی میزائل حملہ خطے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس نے امریکی قیادت میں قائم علاقائی دفاعی حکمتِ عملی کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ اگرچہ واشنگٹن نے پہلے یمنی کارروائیوں کو روکنے کے لیے بحری مہم کا آغاز کیا تھا، لیکن محدود کامیابی کے بعد امریکہ نے براہِ راست تصادم سے خود کو پیچھے ہٹا لیا ہے۔ اس کے برعکس، صنعاء نے واضح الفاظ میں اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام سے یکجہتی میں اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔
میزائل حملے کے بعد، اسرائیلی قابض افواج نے یمن میں متعدد فضائی حملے کیے، جن میں شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں "فوجی دفاع” کے نام پر جواز فراہم کیا گیا۔ اس کے باوجود، یمنی مسلح افواج نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی کارروائیاں غزہ کی حمایت اور جارحیت کے خلاف مزاحمت کا حصہ ہیں۔
یمنی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے یمن پر حملے خطے میں تنازع کو مزید ہوا دے رہے ہیں، لیکن وہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے رہنے کے لیے ہر ممکن قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

