یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سَریع نے اتوار کی صبح اعلان کیا کہ یمنی راکٹ فورس نے ایک اعلیٰ سطحی فوجی کارروائی میں مقبوضہ یافا شہر میں واقع لِد ایئرپورٹ (جسے "اسرائیل” میں بن گوریون ایئرپورٹ کہا جاتا ہے) کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں دو بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے: ایک ہائپر سونک میزائل جس کا نام "فلسطین 2” تھا، اور دوسرا "ذوالفقار” میزائل۔
سریع نے تصدیق کی کہ کارروائی نے اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کیے، جس کے نتیجے میں لاکھوں اسرائیلی آبادکار پناہ گاہوں میں چلے گئے اور ایئرپورٹ پر فضائی آمد و رفت تقریباً ایک گھنٹے کے لیے معطل ہو گئی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اس سے قبل یمنی فضائی یونٹ نے بھی "یافا” قسم کے ڈرون سے لِد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔
سریع نے ان کارروائیوں کو مظلوم فلسطینی عوام اور مزاحمتی جنگجوؤں کی حمایت اور غزہ میں "اسرائیل” کی جانب سے جاری نسل کشی کے خلاف ردعمل قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی کارروائی نہ کی گئی تو دشمن مزید جارحیت پر اتر آئے گا۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ "یہ وسیع سطح پر ناکامی اور بے عملی دشمن کو مزید جرأت دے گی کہ وہ تمام اقوام اور عوام کے خلاف جارحیت میں اضافہ کرے۔”
یمن کے حوالے سے سریع نے یقین دہانی کرائی کہ یمن، غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور فلسطینی علاقے پر عائد محاصرے کے خاتمے تک اپنی حمایت، تیاری اور مدد جاری رکھے گا۔
یمنی میزائل سے تل ابیب میں سائرن بجنے لگے
اس سے قبل، یمن سے داغا گیا ایک میزائل مقبوضہ فلسطین کے متعدد علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجنے کا سبب بنا، جن میں تل ابیب، مقبوضہ لِد، نیتانیا، ہولون، رامت ہاشارون، رانانا اور ہرزیلیا شامل تھے۔ ان علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ پناہ گاہوں کی طرف دوڑ پڑے۔
اسرائیلی قابض افواج نے دعویٰ کیا کہ میزائل کو روک لیا گیا، لیکن اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ تل ابیب میٹروپولیٹن علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسرائیلی میڈیا: یمن اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی پر مجبور کر سکتا ہے
اسرائیلی چینل 12 نے اشارہ دیا ہے کہ یمن اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ غزہ میں جنگ ختم کرنے اور اسرائیلی قیدیوں کی واپسی کے لیے کسی معاہدے تک پہنچے۔
یمنی فضائی حملوں کے بارے میں چینل نے تبصرہ کیا: "ہفتے میں صرف ایک یمنی میزائل ہی کافی ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ بن گوریون ایئرپورٹ کا کیا حال ہوتا ہے۔”
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایئر انڈیا نے ایک بار پھر اسرائیل کے لیے براہِ راست پروازیں مؤخر کر دی ہیں، اور اب یہ پروازیں کم از کم 19 جون تک بحال نہیں ہوں گی۔
چینل نے یمن کو ایک منفرد اور زبردست چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال "پیچیدہ” ہے اور یمن کو شکست دینا ممکن نہیں کیونکہ اس کے پاس سیکڑوں بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔

