پاکستان اور بھارت کی جنگ بندی: عارضی سکون یا مستقل امن کی بنیاد؟
پاکستان کے لیے استحکام کا مطلب:
پاکستان کی نظر میں استحکام کا مطلب صرف جنگ بندی کو منجمد کرنا نہیں، بلکہ مسئلوں کی جڑ تک پہنچ کر مستقل حل تلاش کرنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف سرحدی تنازعات بلکہ کشیدگی کی سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی وجوہات کو بھی سمجھنا اور حل کرنا ضروری ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع امن عمل شروع ہو جو ان تمام پہلوؤں کو شامل کرے۔
بھارت کا رویہ اور لہجہ:
اس کے برعکس، نئی دہلی کا لہجہ اب بھی سخت اور جارحانہ ہے۔ بھارت کی حکومت جنگ بندی کو صرف ایک عارضی وقفہ سمجھتی ہے، اور اس کا زور زیادہ تر سیکیورٹی اور فوجی سطح کی بات چیت پر ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیانات اس سخت گیر رویے کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد داخلی سیاسی مفادات کو پورا کرنا بھی ہے، خاص طور پر آنے والے انتخابات کے تناظر میں۔
جنگ بندی کی پیش رفت:
10 مئی کو شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کی افواج نے مرحلہ وار سرحدی کشیدگی میں کمی کے اقدامات کیے۔ فوجوں کی واپسی، قیدیوں کی واپسی اور ڈی جی ایم اوز کے درمیان مذاکرات مثبت علامات ہیں۔ 12 اور 14 مئی کو ڈی جی ایم اوز کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی اور 18 مئی کو مزید رابطہ طے پایا، جس میں اعتماد سازی اور کشیدگی کم کرنے کے طریقہ کار پر بات ہوگی۔
میڈیا اور عوامی ردعمل:
میڈیا پر بھی اس بار غیر معمولی احتیاط برتی گئی ہے تاکہ معاملات کو مزید خراب نہ کیا جائے۔ ڈی جی ایم اوز نے بات چیت کو میڈیا لیکس سے بچانے پر اتفاق کیا ہے، جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
عالمی سطح پر ثالثی کا کردار:
امریکہ اور سعودی عرب نے جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ امریکی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام نے پسِ پردہ سفارتی رابطے کیے تاکہ دونوں ملکوں کو جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکے۔ اس ثالثی کا مقصد خطے میں استحکام اور عالمی سطح پر امن کو فروغ دینا ہے۔
آئندہ مذاکرات کے چیلنجز:
سب سے بڑا مسئلہ آئندہ مذاکرات کے مقام اور ثالث کے انتخاب کا ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مذاکرات غیر جانبدار مقام پر ہونے چاہئیں، جسے بھارت نے مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان اس بات پر آمادہ ہے، جس سے مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ موجود ہے۔
سیاسی تجزیہ اور سفارشات:
واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ماہر شجاع نواز کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک ایک واضح اور سخت ٹائم لائن کے ساتھ جامع امن ایجنڈا تیار کریں۔ وزیر اعظم مودی، شہباز شریف، اور جنرل عاصم منیر کو اس حوالے سے موثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
نتیجہ:
موجودہ نرم جنگ بندی ایک عارضی وقفہ ضرور ہے، لیکن اس میں مستقل امن کے امکانات بھی موجود ہیں بشرطیکہ دونوں فریقین سیاسی عزم، اعتماد سازی اور کشیدگی کم کرنے کے عمل کو جاری رکھیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں کو اپنی داخلی سیاسی صورتحال سے بالاتر ہو کر، خطے کے مفاد میں ایک جامع اور پائیدار امن عمل کو فروغ دینا ہوگا۔ عالمی ثالثی کو بھی اس عمل میں مددگار بنانا چاہیے تاکہ کشیدگی کی اصل وجوہات کو حل کیا جا سکے اور ایک دیرپا امن قائم ہو۔
18 مئی کے ڈی جی ایم اوز کے رابطے کی اہمیت اور چیلنجز
18 مئی کو دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہونے والا رابطہ انتہائی فیصلہ کن ہے۔ اس ملاقات میں چند اہم امور زیر غور آئیں گے جن کا تعلق جنگ بندی کی مضبوطی اور کشیدگی کو کم کرنے سے ہے:
- جنگ بندی کے ضوابط کی توثیق:
دونوں فریقین کو جنگ بندی کی شرائط اور ضوابط پر اتفاق رائے قائم کرنا ہوگا تاکہ وہ باضابطہ طور پر نافذ ہوں اور کسی قسم کی خلاف ورزی کی گنجائش نہ رہے۔ - فوجوں کی واپسی کا حتمی شیڈول:
ماضی کے رابطوں میں فوجوں کی واپسی کے سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے، مگر اس رابطے میں اسے حتمی شکل دینا اور واضح ٹائم لائنز کا تعین کرنا ضروری ہوگا تاکہ دونوں جانب اعتماد بڑھے۔ - غلط فہمیوں اور تصادم کے خطرات کم کرنا:
بارڈر پر غلط فہمیوں کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے جھڑپوں کے امکانات ہوتے ہیں۔ اس ملاقات کا مقصد ایسے کسی بھی واقعے کے امکانات کو کم کرنا، فوری رابطے کے ذریعے مسائل کو حل کرنا اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی بڑھانا ہے۔
اگر اس ملاقات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی، تو گزشتہ ہفتے کے تمام مثبت اقدامات ضائع ہو سکتے ہیں اور کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال کے خطرات اور مواقع
- خطرات:
دونوں ممالک کی طرف سے جاری سخت سیاسی اور جذباتی بیانات، عوامی دباؤ، اور داخلی سیاسی پیچیدگیوں کی وجہ سے امن کے عمل کو برقرار رکھنا مشکل ہے۔ اگر دونوں فریق ایک حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ مکالمے کے فریم ورک پر متفق نہیں ہوتے، تو ماضی کی طرح تصادم دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔ - مواقع:
10 مئی کی جنگ بندی نے فوری طور پر خونریزی کو روک کر ایک موقع فراہم کیا ہے کہ دونوں ممالک اعتماد سازی اور مسئلہ کشمیر سمیت دیگر تنازعات پر بات چیت کا آغاز کریں۔ اگر سیاسی اور عسکری قیادت اس موقع کا فائدہ اٹھاتی ہے، تو خطے میں دیرپا امن کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
خلاصہ
18 مئی کا ڈی جی ایم اوز کا رابطہ کسی حد تک اس جنگ بندی کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ یہ وقت ہے کہ دونوں طرف کے حکمران اپنی داخلی سیاسی سوچ سے بالاتر ہو کر امن کے لیے عملی اقدامات کریں اور جذباتی بیانات سے آگے نکل کر حقیقی مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔ ورنہ ایک بار پھر پرانی راہ پر لوٹنے کے نتائج خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
باقر سجاد سید کی تحریرڈان نیوزسے

