نیٹو کے اندر کرپشن کے ایک تازہ اسکینڈل نے چھ ممالک میں چھاپوں اور گرفتاریوں کو جنم دیا ہے، جہاں حکام بدعنوانی، دفاعی معاہدوں میں دھوکہ دہی اور حساس معلومات کے افشاء کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یورپ کے متعدد ممالک اور امریکہ نے نیٹو کے لاجسٹک ادارے نیٹو سپورٹ اینڈ پروکیورمنٹ ایجنسی (NSPA) میں بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے ایک بڑھتے ہوئے اسکینڈل پر مشترکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
NSPA، جو نیٹو کا مرکزی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ ہے، رکن ممالک اور اتحادیوں کے لیے لاجسٹک اور خریداری سے متعلق وسیع النوع سہولیات فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ نفع و نقصان سے آزاد بنیادوں پر کام کرتا ہے اور صرف صارفین کی مالی معاونت پر انحصار کرتا ہے۔
کرپشن کے اس وسیع تحقیقات کے تحت لکسمبرگ، بیلجیئم، نیدرلینڈز، اسپین، اٹلی اور امریکہ میں چھاپے مارے گئے اور موجودہ و سابقہ NSPA اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا۔ یورپی یونین کے فوجداری انصاف کے ادارے "یوروجسٹ” کی نگرانی میں ہونے والی اس کارروائی میں رشوت، غیرقانونی ٹھیکے دینے اور حساس معلومات نجی دفاعی کمپنیوں کو فراہم کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
نیٹو نے اس اسکینڈل کی ابتدائی چھان بین اس وقت شروع کی جب معاہدوں کی تقسیم میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ نیٹو کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ادارہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قریبی تعاون کر رہا ہے تاکہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے، اور مستقبل میں ایسی بدعنوانی سے بچاؤ کے لیے اندرونی نظام کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے۔
بیلجیئم اور نیدرلینڈز کی حکام نے متعدد گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ بیلجیئم میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ نیدرلینڈز میں تین مشتبہ افراد کو پکڑا گیا، جن میں وزارتِ دفاع کا ایک سابق اہلکار بھی شامل ہے، جسے ایمسٹرڈیم کے اسخیپول ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ اس پر الزام ہے کہ اُس نے 2023 میں نیٹو کے دفاعی معاہدوں کے بدلے رشوت لی اور حساس ٹینڈر معلومات افشاء کیں۔
لکسمبرگ کے پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ زیرِ تفتیش NSPA ملازمین پر شبہ ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ذاتی مالی مفاد حاصل کیا۔ چھاپوں کے دوران قبضے میں لی گئی دستاویزات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ممکنہ نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
نیٹو اور یورپی یونین کا مکمل تعاون کا اعلان
نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے کہا: "نیٹو، بشمول NSPA، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کر رہا ہے تاکہ قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔” اسی دوران نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے، جو اس وقت ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں موجود ہیں، نے کہا کہ نیٹو اس اسکینڈل کی تہہ تک جانا چاہتا ہے۔
یہ چھاپے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین جنگ کے بعد فوجی اخراجات میں اضافے کے تناظر میں نیٹو اور یورپی اداروں پر شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تفتیش کاروں کی جانب سے دیگر متعلقہ اہلکاروں اور حالیہ ٹینڈرز میں شامل ٹھیکیداروں تک تحقیقات کو وسعت دینے کا امکان ہے۔
یہ اسکینڈل ایک انتہائی حساس سیاسی وقت پر سامنے آیا ہے، جب یورپی یونین اور نیٹو ممالک فوجی تیاریوں کو بہتر بنانے اور ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ یوکرین کو مسلسل اسلحہ کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔ مارچ میں یورپی کمیشن نے دفاعی صنعت کو مضبوط کرنے کے لیے 800 ارب یورو (896 ارب ڈالر) کے نئے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
NSPA نیٹو کے لاجسٹک، خریداری اور آپریشنل سپلائی کے نظام کو مربوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، اور اس میں بدعنوانی نیٹو کی مشترکہ خریداری کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، ساتھ ہی ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر کا باعث بھی بن سکتی ہے، جو موجودہ عالمی کشیدگی کے ماحول میں تشویشناک ہے۔
جوں جوں تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں، نیٹو اور یورپی یونین کے حکام پر یہ دباؤ ہے کہ وہ شفافیت کو یقینی بنائیں اور اپنے دفاعی نظام پر عوامی اعتماد بحال کریں۔

