پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامینیویارک یونیورسٹی نے فلسطین پر اظہارِ خیال پر طالب علم کا ڈپلومہ...

نیویارک یونیورسٹی نے فلسطین پر اظہارِ خیال پر طالب علم کا ڈپلومہ معطل کر دیا
ن

نیویارک — نیویارک یونیورسٹی (NYU) کو ایک ایسے طالب علم لوگان روزوس کے خلاف شدید تنقید کا سامنا ہے جس کا ڈپلومہ اس لیے روکا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنی گریجویشن تقریر میں "اسرائیل” کی غزہ پر جاری جارحیت کی شدید مذمت کی، جس سے تعلیمی آزادی اور کیمپس پر اظہار رائے کے موضوع پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

لوگان روزوس، جو نیویارک یونیورسٹی کے گالٹین اسکول آف انڈیویجویلائزڈ اسٹڈی کا گریجویٹ طالب علم ہے، نے اپنی خطاب میں کھل کر کہا:
"اس وقت اور اس بڑے مجمع سے مخاطب ہوتے ہوئے ایک ہی مناسب بات یہ ہے کہ ہم فلسطین میں جاری مظالم کو تسلیم کریں۔”

اپنی تقریر میں روزوس نے مزید کہا،
"آج جب میں آپ سب سے مخاطب ہوں تو میرے اخلاقی اور سیاسی عزم مجھے ‘اسرائیل’ کی غزہ پر جنگ کے خلاف بولنے پر مجبور کرتے ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 18 ماہ میں کم از کم 53 ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، اور اس نسل کشی کو "امریکہ سیاسی اور عسکری طور پر سپورٹ کرتا ہے، ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے فنڈ کیا جاتا ہے، اور اسے ہماری فونز پر براہِ راست دکھایا جا رہا ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد صرف اپنی سیاسی رائے کا اظہار نہیں بلکہ "تمام ضمیر کے حامل افراد کے لیے بولنا ہے جو اس ظلم کی اخلاقی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔”

تقریب میں ان کے الفاظ پر زبردست تالیوں اور نعرہ بازی کے ساتھ ساتھ کچھ ناپسندیدگی کے نعرے بھی سنے گئے۔

نیویارک یونیورسٹی نے طالب علم پر قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا
تقریر کے بعد، NYU نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے روزوس کی تقریر کی مذمت کی اور اس کا ڈپلومہ روکنے کا اعلان کیا۔
"یونیورسٹی سختی سے مذمت کرتی ہے کہ گالٹین اسکول کی گریجویشن میں ایک طالب علم نے اپنی تقریر کے دوران اپنی ذاتی اور یکطرفہ سیاسی رائے کا اظہار کرنے کے لیے اپنے مقررہ کردار کا غلط استعمال کیا۔”

بیان میں مزید کہا گیا،
"اس نے جو تقریر دینی تھی اس میں جھوٹ بولا اور ہمارے قواعد کی پابندی کا عہد توڑا۔ یونیورسٹی اس کے خلاف تادیبی کارروائیوں کے دوران اس کا ڈپلومہ روک رہی ہے۔”

نیویارک یونیورسٹی نے سامعین سے معذرت بھی کی اور کہا کہ یہ لمحہ "اس شخص نے چرا لیا جس نے اپنے دیے گئے امتیاز کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔”

جمعرات کی صبح تک، NYU گالٹین اسکول کی ویب سائٹ سے روزوس کا پروفائل ہٹا دیا گیا تھا اور وہاں 404 ایرر ظاہر ہو رہا تھا۔

پس منظر: NYU کی فلسطین حمایت کی آوازوں پر کریک ڈاؤن
یہ پہلا موقع نہیں کہ NYU نے "اسرائیل” کے خلاف بولنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہو۔ اگست میں، یونیورسٹی نے اپنے ضابطہ اخلاق میں تبدیلی کرتے ہوئے "زبان میں کوڈ ورڈز جیسے ‘صہیونی'” کو تعصب سمجھا اور کہا کہ "بہت سے یہودیوں کے لیے صہیونیت ان کی یہودی شناخت کا حصہ ہے۔” اس کے تحت اب صہیونیوں کے خلاف تقریر یونیورسٹی کی عدم امتیاز اور انسداد ہراسانی کی پالیسی میں آ سکتی ہے۔

یہ تبدیلی اس وقت کی گئی جب کیمپس پر فلسطین کی حمایت میں طلبہ کی ایک بڑی تحریک شروع ہوئی، جس کے جواب میں NYU انتظامیہ نے پولیس کو طلب کیا، جس کے نتیجے میں طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد گرفتار ہوئی۔

پچھلے دسمبر میں، دو معزز پروفیسرز، اینڈریو روس اور سونیا پوسمینٹئیر، کو اس وقت یونیورسٹی نے "ناپسندیدہ افراد” قرار دے دیا جب انہوں نے "اسرائیل” کی جنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں سے یونیورسٹی کے سرمایہ کاری ختم کرنے کے لیے دھرنا دیا تھا۔ انہیں بعض کیمپس عمارتوں میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔

نیویارک یونیورسٹی نے ڈاکٹر جویین لیو، جو سابق صدر ہیں میڈیسنز سان فرنٹیرز کی، کی تقریر بھی منسوخ کر دی تھی، جس کی وجہ ان کے سلائیڈ مواد میں USAID کی کٹوتیوں اور غزہ میں فلسطینی ہلاکتوں کا ذکر تھا۔ ڈاکٹر لیو نے بتایا کہ NYU کے تعلیم کے نائب چیئر نے انہیں کہا تھا کہ یہ سلائیڈز "یہودی مخالف سمجھے جا سکتے ہیں۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین