پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیشام اور یو اے ای کا طرطوس بندرگاہ ترقی کا 800 ملین...

شام اور یو اے ای کا طرطوس بندرگاہ ترقی کا 800 ملین ڈالر معاہدہ
ش

شام کی جنرل اتھارٹی برائے زمینی و بحری بندرگاہوں نے دبئی پورٹس ورلڈ (ڈی پی ورلڈ) کے ساتھ 800 ملین ڈالر مالیت کا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد طرطوس بندرگاہ کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور ملک کے لاجسٹک ڈھانچے کو وسعت دینا ہے۔

اتھارٹی کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں اس معاہدے کو "شام میں بندرگاہوں اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام” قرار دیا گیا ہے، جو ملک کی تعمیر نو کی کوششوں اور معیشت کے احیاء میں معاون ثابت ہوگا۔

ایم او یو کے تحت طرطوس بندرگاہ پر ایک کثیر المقاصد ٹرمینل کی ترقی، انتظام اور آپریشن کے لیے جامع سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس منصوبے کا مقصد بندرگاہ کی آپریشنل صلاحیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے، تاکہ اسے علاقائی و عالمی تجارت کے لیے ایک مرکزی مرکز میں تبدیل کیا جا سکے۔

صنعتی و آزاد تجارتی زونز کے قیام کا بھی منصوبہ

معاہدے میں نہ صرف طرطوس بلکہ شام کے دیگر اسٹریٹجک مقامات پر صنعتی زونز، آزاد تجارتی علاقے، ڈرائی پورٹس اور مال برداری کے عبوری مراکز قائم کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ دونوں فریقین نے شام میں اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور تجارتی و نقل و حمل کے نظام کو موثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جنرل اتھارٹی کے مطابق یہ معاہدہ شامی حکومت کے اس وژن کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ٹرانسپورٹ کے شعبے کو جدید بنانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے نئے دروازے کھولنا ہے۔ یہ منصوبہ اُن جامع کوششوں کا حصہ ہے جن کے ذریعے شام کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور اُن اقتصادی شعبوں کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو برسوں کی خانہ جنگی سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورے کے دوران شام پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا ہے، جس سے شام میں بین الاقوامی شراکت داری کے امکانات میں اضافہ متوقع ہے۔

روسی کمپنی کا معاہدہ منسوخ، بندرگاہ کا مکمل کنٹرول شامی ریاست کو حاصل

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ شام کی عبوری حکومت نے طرطوس بندرگاہ کے انتظام سے روسی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے روسی کمپنی کے ساتھ 2019 میں طے پانے والے طویل مدتی معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے۔ طرطوس میں کسٹمز ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ریاض جودی نے روزنامہ الوطن سے بات کرتے ہوئے اس پیش رفت کی تصدیق کی اور کہا کہ اب بندرگاہ سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی براہ راست شامی ریاست کو جائے گی۔

واضح رہے کہ سابق صدر بشار الاسد کے دور حکومت میں روسی کمپنی اسٹروئی ٹرانس گاز کے ساتھ ایک 49 سالہ معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کمپنی بندرگاہ میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرتی اور منافع کا 65 فیصد حصہ حاصل کرتی، جبکہ بقیہ 35 فیصد شام کو ملتا۔

طرطوس بندرگاہ، جو لطاکیہ کے بعد شام کی دوسری بڑی بندرگاہ ہے، سالانہ چار ملین ٹن کی گنجائش رکھتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں روس کا واحد بحری فوجی اڈہ بھی یہی ہے۔ یہ اڈہ 1971 میں سوویت یونین نے قائم کیا تھا اور 2017 میں اسے وسعت دی گئی، جس کے بعد یہ روس کی خطے میں عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز بن گیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین