اسرائیلی قابض افواج نے محصور غزہ کی پٹی پر وحشیانہ حملے جاری رکھتے ہوئے ایک ہی دن میں درجنوں فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
طبی ذرائع کے مطابق جمعرات کی صبح سے جمعہ کی صبح تک اسرائیلی فضائی، زمینی اور بحری حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 143 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
جمعہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق نصف شب سے پانچ گھنٹوں کے دوران ہونے والے حملوں میں 21 فلسطینیوں کے شہید ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
تازہ ترین حملوں میں سے ایک میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم چھ شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
اس سے قبل اسی کیمپ پر ہونے والے ایک اور حملے میں 15 شہری شہید ہوئے تھے، جن میں 11 بچے اور ایک خاتون شامل تھی۔
جنوبی شہر خان یونس میں دو علیحدہ حملوں میں پانچ شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
غزہ شہر کے شمال میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنانے سے مزید دو فلسطینی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
حماس کے زیرانتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 18 مارچ سے اسرائیلی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد اب تک 2,876 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک غزہ میں مجموعی طور پر 53,010 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں جمعرات کو سڑکوں کو بند کر دیا گیا اور مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں چار فلسطینی شہید کیے گئے۔
قابض اسرائیلی حکومت نے 21 جنوری کو مغربی کنارے میں اپنی جارحیت میں شدت لاتے ہوئے "جنین بریگیڈ” کے مزاحمتی جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیل نے مغربی کنارے میں بھی اپنی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں اب تک اسرائیلی افواج اور شدت پسند آبادکاروں کے ہاتھوں تقریباً ایک ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

