پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیایران کے کسی بھی جوہری مرکز کو ختم نہیں کیا جائے گا:...

ایران کے کسی بھی جوہری مرکز کو ختم نہیں کیا جائے گا: وزیر خارجہ
ا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے زور دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے پرامن جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوران ملک کے کسی بھی جوہری مرکز کو ختم نہیں کیا جائے گا۔

عراقچی نے تہران کی 36ویں بین الاقوامی کتاب میلے کے موقع پر وزارت خارجہ کے اسٹال پر منعقدہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہا،
"ایرانی قوم کے جوہری میدان میں حقوق بشمول یورینیم کی افزودگی کا دفاع ایک ایسا اصول اور حق ہے جس پر ہم نہ میڈیا میں اور نہ ہی مذاکراتی میز پر سمجھوتہ کریں گے۔ یہ ایرانی عوام کا حق ہے اور کوئی اسے رد نہیں کر سکتا۔”

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تہران شفافیت فراہم کرنے اور اعتماد سازی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ پابندیوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

"ہم اس عمل کی وضاحت کر سکتے ہیں، لیکن کسی بھی جوہری مرکز کو ختم نہیں کیا جائے گا۔”

وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران مذاکرات جاری رکھنے کا خواہاں ہے، جب تک دوسری طرف ہمارے حقوق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو۔

عراقچی نے مزید کہا کہ دونوں فریقین ابھی تک کسی فریم ورک آف انڈر اسٹینڈنگ (فہم و تفاهم کا خاکہ) تک نہیں پہنچے۔
"اگر ہم فریم ورک آف انڈر اسٹینڈنگ پر پہنچ گئے تو دیگر مسائل بھی زیر بحث آئیں گے، لیکن ابھی ہم اس مقام پر نہیں پہنچے ہیں۔”

دوسری جانب، عراقچی نے امریکی حکام کی جانب سے ایران کو جوہری معاہدے کے لیے تحریری پیشکش دیے جانے کی رپورٹس کی تردید کی۔
"مذاکرات کے دوران تجاویز تحریری طور پر پیش کی گئیں، لیکن ہمیں اب تک کوئی تحریری تجاویز موصول نہیں ہوئیں۔”

ایران اور امریکہ کے درمیان 2015 کے معاہدے کی جگہ لینے کے لیے اب تک چار مذاکراتی دور ہو چکے ہیں جنہیں دونوں فریقین نے مثبت قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ 2018 میں امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ایک تاریخی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا، جس میں ایران کو جوہری سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے بدلے پابندیاں نرم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اب ایران کو یہ یقین دہانی چاہیے کہ امریکہ تمام پابندیاں ہٹا دے گا اور نئے معاہدے کو ایک طرفہ طور پر دوبارہ ختم نہیں کرے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین