پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیانصار اللہ رہنما کا ایران کی فلسطین حمایت کو اسلامی فریضہ قرار...

انصار اللہ رہنما کا ایران کی فلسطین حمایت کو اسلامی فریضہ قرار دے دیا
ا

یمن کی مزاحمتی تحریک انصار اللہ کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے ایران کی فلسطینی قوم اور ان کے جائز حقوق کی حمایت کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس حوالے سے ایک قابلِ ستائش راستہ اختیار کیے ہوئے ہے، جسے تمام مسلم ممالک کو اپنانا چاہیے۔

جمعرات کو صنعا سے براہِ راست نشر ہونے والے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں الحوثی نے کہا،
"ایران فلسطینی مسئلے کو اپناتے ہوئے اور مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کرتے ہوئے ایک قابلِ تحسین اسلامی رویہ اختیار کر رہا ہے۔ یہی رویہ ہر مسلم ملک کا فرض ہے۔”

انہوں نے مزید کہا،
"ایران کی پوزیشن ایک قابلِ تعریف اسلامی حکمت عملی ہے جو فلسطینی مسئلے کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ نے فلسطین کی مدد کر کے اپنا اسلامی فریضہ پورا کر دکھایا ہے۔”

انصار اللہ کے سربراہ نے عرب ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی مسئلے کے حوالے سے ان کی غیر واضح پالیسیوں اور عملی اقدام نہ کرنے کی وجہ سے مقدس مسئلہ عالمی سطح پر نقصان اٹھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب حکمران محض ذلت آمیز ہتھیار ڈالنے اور رعایت دینے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔

الحوثی نے مسلم دنیا کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو صہیونی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہوگا اور فلسطینی قوم کی بھرپور حمایت کرنی ہوگی۔

انہوں نے لبنان کے جنوبی حصے سے اسرائیلی فوج کے انخلاء میں حزب اللہ کے کردار کو بھی سراہا،
"حزب اللہ کے مجاہدین نے صبر، جدوجہد اور قربانیوں کے ذریعے اسرائیلی دشمن کو پسپا کیا اور انہیں سخت شکستیں دیں۔”

الحوثی نے 1948 کی نكبہ، یعنی فلسطین کی نسلی صفائی، کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا،
"نكبہ سے حاصل ہونے والے اہم اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ صہیونی ریاست کا جارحانہ اور مجرمانہ کردار گزشتہ 77 برسوں میں نہیں بدلا۔ اس پورے عرصے میں عالمی بالخصوص مغربی پالیسیاں صہیونی ریاست کی مکمل حمایت پر قائم رہی ہیں۔”

انہوں نے مغربی ممالک کی حمایت کو انسانی حقوق کے دعوؤں کی منافقت قرار دیا جو صرف عوام کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

الحوثی نے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی مظالم کی جانب بھی توجہ دلائی،
"اس ہفتے صہیونی ریاست نے وہاں کئی خاندانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔”

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت امریکی اور مغربی حمایت پر انحصار کرتی ہے، اور اس ہفتے غزہ پر حملوں میں ایک ہزار 200 سے زائد افراد جاں بحق یا زخمی ہوئے جن میں اکثریت خواتین اور بچے ہیں۔

"غزہ میں قتلِ عام مسلمانوں کی نظروں کے سامنے جاری ہے۔ جب سے اسرائیلی جارحیت 18 مارچ کو دوبارہ شروع ہوئی، شہداء کی تعداد 1800 سے تجاوز کر گئی ہے اور زخمیوں کی تعداد 7700 سے زیادہ ہو گئی ہے۔”

الحوثی نے مزید کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حملے اور اغواء جاری ہیں جو اس خطے پر مکمل تسلط کی غمازی کرتے ہیں۔

انہوں نے فلسطینی اتھارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا،
"یہ افسوسناک ہے کہ فلسطینی اتھارٹی فلسطینیوں پر ظلم ڈھاتی ہے اور صہیونی دشمن کے ساتھ ساز باز کرتی ہے۔ عرب فوجوں کی کمزور ارادے بازی ہی اس خطے میں صہیونی جارحیت کی اصل وجہ ہے۔”

آخر میں انہوں نے یمن اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،
"صنعا ذلت آمیز حالات میں مذاکرات نہیں کرے گا اور امریکہ کے آگے سر نہیں جھکائے گا۔”

"اگر امریکی مذاکرات کو قبول نہ کریں تو ہمارے لیے یہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ ہم مذاکرات اور امن کے پابند ہیں، مگر کل وقتی تسلیم و انکساری پر نہیں۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین