یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع بن گوریان بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
برگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے جمعرات کی شب بتایا کہ یمنی میزائل یونٹس نے تل ابیب کے جنوب مشرق میں 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بن گوریان ایئرپورٹ پر مقامی ساختہ ہائپرسانک بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ جوابی حملہ اپنے اہداف کے حصول میں مکمل طور پر کامیاب رہا، جس کے نتیجے میں لاکھوں صہیونی باشندے پناہ گاہوں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔
یحییٰ سریع نے کہا کہ یمنی مسلح افواج اور آزاد منش قوم، خطے میں جاری صورتحال، عام شہریوں کے روزانہ قتل عام، امدادی سامان کی طویل ناکہ بندی اور مسلم ریاستوں کی مجرمانہ خاموشی کے تناظر میں غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کو اپنا مذہبی، اخلاقی اور انسانی فریضہ سمجھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمن اپنے فوجی اقدامات میں اس وقت تک وسعت اور شدت لاتا رہے گا جب تک یمن پر حملے بند نہیں کیے جاتے اور غزہ میں فلسطینی عوام پر مسلط کردہ محاصرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔
یحییٰ سریع کے مطابق، یمنی افواج بن گوریان ایئرپورٹ پر مکمل فضائی ناکہ بندی عائد کریں گی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک جہازوں کو بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں داخل ہونے سے مسلسل روکتی رہیں گی۔
غزہ پر جاری اسرائیلی نسل کش جنگ کے تناظر میں، یمنی افواج نے اہم بحری راستوں پر اسٹریٹیجک ناکہ بندی نافذ کر دی ہے تاکہ اسرائیل کو فوجی امداد کی فراہمی روکی جا سکے اور عالمی برادری کو انسانی بحران کے حل کے لیے اقدام پر مجبور کیا جا سکے۔
یمنی مسلح افواج نے واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ میں اپنی زمینی و فضائی جارحیت بند نہیں کرتا، یمنی حملے بھی جاری رہیں گے۔

