غزہ پر جاری جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی سیاحت کا شعبہ شدید بحران سے دوچار ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 90 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مالی نقصانات تین ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز کے بعد سے سیاحت کے شعبے میں زبردست مندی دیکھنے میں آئی ہے، جس کا اندازہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں غیر معمولی کمی اور اربوں ڈالر کے نقصان سے لگایا جا سکتا ہے۔
قابض اسرائیلی وزارت سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق یہ شعبہ اس وقت "بے مثال بحران” کا شکار ہے، جہاں 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں 90 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے "مکان” کی رپورٹ کے مطابق سیاحت کے شعبے کو اب تک براہِ راست اور بالواسطہ طور پر 12 ارب شیکل (تقریباً 3.5 ارب ڈالر) سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔
اسرائیلی حکام اس شدید گراوٹ کی وجوہات میں بین الاقوامی فضائی آمدورفت کا تقریباً مکمل تعطل، درجنوں ممالک کی جانب سے سفری انتباہات اور اسرائیلی داخلی محاذ پر سیکورٹی کی غیر یقینی صورتحال کو قرار دیتے ہیں۔
ہوٹلز کی بکنگ تاریخی کم ترین سطح پر
اسرائیل ہوٹل ایسوسی ایشن کے مطابق سیاحتی ہوٹلز کی بکنگ کی شرح تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جو بعض علاقوں میں 10 فیصد سے بھی نیچے ہے۔ گزشتہ برسوں میں انہی ایام میں یہ شرح 80 فیصد سے تجاوز کرتی تھی۔ اس تناظر میں متعدد ہوٹلز اور سیاحتی ادارے یا تو اپنی سرگرمیاں محدود کر چکے ہیں یا عارضی طور پر بند ہو گئے ہیں۔
سیاحت کے شعبے سے منسلک ذرائع نے تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ بحران جنگ کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل کی بطور "محفوظ سیاحتی مقام” ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بین الاقوامی اعتماد کی بحالی کے لیے طویل وقت اور دُگنے اشتہاری اقدامات کی ضرورت پڑے گی۔
یمن کی جانب سے اسرائیل پر فضائی ناکہ بندی کا اعلان
یمنی مسلح افواج نے 4 مئی کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل پر فضائی ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا، جو کہ غزہ کے حق میں اسرائیلی قبضے کے خلاف ان کی کارروائیوں میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
بیان میں تمام بین الاقوامی ایئر لائنز کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اس انتباہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسرائیلی ہوائی اڈوں کی جانب پروازیں معطل کر دیں تاکہ اپنے طیاروں اور مسافروں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
ایئر کینیڈا نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ اسرائیل کے لیے پروازوں کی معطلی کو 8 ستمبر تک توسیع دی گئی ہے اور یہ پروازیں 8 جون سے دوبارہ شروع نہیں کی جائیں گی جیسا کہ پہلے متوقع تھا۔
پولینڈ کی ایئرلائن "لاٹ”، جرمنی کی "لوفتھانسا”، فرانس کی "ایئر فرانس”، اٹلی کی "آئی ٹی اے”، امریکہ کی "ڈیلٹا” اور "یونائیٹڈ ایئرلائنز”، اور برطانیہ کی "برٹش ایئرویز” سمیت کئی ایئرلائنز نے اسرائیل کے لیے پروازیں مختلف مدت کے لیے معطل کر دی ہیں، جن میں بعض معطلیاں وسط جون تک جاری رہیں گی۔
8 مئی کو یمنی مسلح افواج نے ایک وڈیو کلپ جاری کیا جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود اسرائیل کے تین مرکزی ہوائی اڈوں کے نام اور کوآرڈینیٹس دکھائے گئے، اور انہیں "غیر محفوظ” قرار دیا گیا، جو اسرائیل کی جانب سے صنعاء پر حملے کے بعد انتقامی کارروائی کی دھمکی کے طور پر سامنے آیا۔
اسی دن یمنی افواج نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع بن گوریون ہوائی اڈے پر ایک ہائپر سونک بیلسٹک میزائل داغا، جس کا ہدف ٹرمینل 3 تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یمن سے داغا گیا میزائل تل ابیب میں بن گوریون ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 کے قریب آ گرا، جس کے نتیجے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے، پروازیں اور قریبی ٹرین سروس متاثر ہوئی، جبکہ مَگین ڈیوڈ آدوم ایمرجنسی سروس کے مطابق متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
یمنی مسلح افواج نے 13 مئی کو ایک اور میزائل حملہ کیا جس نے بن گوریون ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں لاکھوں اسرائیلی شہری پناہ گاہوں کی طرف دوڑ پڑے اور ہوائی ٹریفک معطل ہو گئی۔ اس حملے نے اسرائیل پر نافذ کردہ فضائی ناکہ بندی کو مزید مضبوط کر دیا۔

